بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانپاکستان کو مضبوط، مستحکم و ترقی یافتہ ریاست بنانے کیلئے سیاسی ہم...

پاکستان کو مضبوط، مستحکم و ترقی یافتہ ریاست بنانے کیلئے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے، آصف زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کو مضبوط، مستحکم و ترقی یافتہ ریاست بنانے کیلئے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معاشی چیلنجز کا مستقل حل زراعت میں پوشیدہ ہے، ملک میں وسائل کی کمی نہیں، تسلسل و منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، ملکی ترقی کیلئے تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، اگر ترقی کا عمل رک جائے تو اثرات طویل عرصے تک محسوس ہوتے ہیں، ملک میں 4 سال فیض حمید کی حکومت رہی اسے کیا پتہ حکومت کس طرح کرنی، ریلیف کیسے دینا ہے؟، 14 سال جیل میں گزارے، جب بچوں سے ملا تو وہ قد میں مجھ سے بڑے ہو چکے تھے، ایک شخص کو ڈیڑھ سال نہیں ہوا آوازیں آرہی ہیں، مشکلات سیاست کا حصہ، برداشت نہ کر سکنے والا کوئی اور کام کرلے۔

وہاڑی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی مسلسل عمل ہے، اس میں مشکلات کے باوجود ریاستی ادارے اور عوام مل کر آگے بڑھ رہے ہیں، ملکی حالات پہلے سے بہتر ہیں، تاہم مکمل بہتری میں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کیلئے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے، ہم نے ایک سوچ کے تحت حکومت بنائی، ہم نے مریم بی بی اور شہباز شریف کو ووٹ دے کر ساتھ چلنے کا ارادہ کیا اور صدر کی سیٹ کیلئے بھی ووٹ مانگا۔

انہوں نے کہا کہ قومی ترقی زرعی شعبے کی مضبوطی سے مشروط ہے، ملکی معاشی چیلنجز کا مستقل حل زراعت میں پوشیدہ ہے، کسانوں کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ وہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کا انحصار جدید زرعی طریقوں کے فروغ و کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ میں خود 7 پشتوں سے زمیندار ہوں، اپنے دور میں گندم کی قیمتوں پر لیول پلیئنگ فیلڈ بنائی، پورے سندھ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زرعی زمین آباد کی۔ انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کا بہتر انتظام ناگزیر ہے، ملک میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ تسلسل اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ سندھو دریا ہزاروں سال سے بہہ رہا ہے، پنجاب کو30سال سے کہہ رہا ہوں اپنا پانی راوی سے نکالیں، ہمیں پانی کا موثر استعمال یقینی بنانا ہوگا، ہم نے ایک ملین ہیکٹر سے زیادہ مینگروز لگائے، میں ہر چیز کو سنبھل کر، دیکھ کر اورسوچ کر کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ کارڈ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے بنایا، سندھ میں زمین خواتین کیلئے تقسیم کی، اب گھر وں کے مالکانہ حقوق بھی خواتین کو دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے کسانوں کیساتھ ہوں، ہاری کے پاس چار پیسے کم ہوں تو تکلیف ہوتی ہے، میں کبھی ہاری سے ادھار واپس نہیں لیتا، ہم دنیا میں کاربن کریڈٹس فروخت کررہے ہیں، کاربن کریڈٹس کا پروجیکٹ 10سال سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ آلودگی، پانی اورخراب راستے ہیں، سندھو پر 9 پل بنوا چکا ہوں، ہم نے سندھ میں ڈاکو راج ختم کیا ہے، پنجاب تک سندھ پولیس ڈاکوئوں سے لڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کے حالات مختلف ہیں، ملکی ترقی کیلئے تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ اگر ترقی کا عمل رک جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس ہوتے ہیں۔ صدر مملکت نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔

صدر مملکت نے کہا کہ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے خواہش ہے آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو مثبت انداز میں یاد کریں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی تعاون انتہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے ،قومی مفاد میں تمام قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہئے۔

صدر مملکت نے پی ٹی آئی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ ملک 4سال رکا رہا، ان 4سالوں میں عمران خان کی نہیں فیض حمید کی حکومت تھی، فیض حمید کو کیا پتہ حکومت کیسے کرنی ہے اورریلیف کیسے دینا ہے؟، مجھے پتہ تھا بلوچستان کے عوام کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اس لئے ان کے مسال حل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کوشش کر کے حالات بہتر کررہے ہیں مگر ایک جماعت تصادم پر اتری ہوئی ہے، انہوں نے خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں کوئی کام نہیں کیا۔

صدر مملکت نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کو تقریریں کرنے کی عادت تھی مگر عملی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا ہر سیاستدان کا امتحان ہوتا ہے، میں 14سال جیل میں گزارے، جب بچوں سے ملا تو وہ قد میں مجھ سے بڑے ہو چکے تھے، انہیں ابھی ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ آوازیں آ رہی ہیں، بیٹا کہہ رہا ہے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ سیاست ایک ہمہ جہت ذمہ داری ہے جس میں ہر شعبہ شامل ہوتا ہے، سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، اگر کوئی یہ برداشت نہیں کر سکتا تو اسے کوئی اور شعبہ اختیار کرنا چاہئے۔

صدر مملکت نے کہا کہ قیادت و حکمرانی اور ملک کو درپیش چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کرنے کیلئے برداشت، لچک، سیاسی بلوغت، سنجیدگی و دور اندیشی ضروری ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!