کابل (شِنہوا) اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال (یونیسف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں تقریباً 2 کروڑ 29 لاکھ افراد، جن میں ایک کروڑ 20 لاکھ بچے بھی شامل ہیں، یعنی تقریباً نصف آبادی کو گزشتہ سال انسانی امداد کی ضرورت رہی۔
رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آفات، جاری معاشی جمود اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے ملک بھر میں انسانی امداد کی ضرورت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید موسمی حالات، جن میں خشک سالی اور سیلاب شامل ہیں، نے موجودہ مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے، خوراک کی کمی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور شہروں اور دیہی اضلاع میں محدود عوامی خدمات پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔
یونیسف نے بالخصوص پانی و صفائی، طبی اور غذائی شعبوں میں مالی وسائل کی شدید کمی کی نشاندہی کی ہے۔ اس کمی نے خدمات کی فراہمی کو متاثر کیا ہے اور زندگی بچانے والے ضروری سامان کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔


