وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کے خساروں میں کمی، گورننس بہتر بنانے کیلئے اصلاحات جاری ہیں، 25کروڑ آبادی کو سرکاری نوکری دینا ممکن نہیں، نجی شعبہ فعال بنانا ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ہر شعبے میں شفافیت یقینی بنا رہی ہے، تمام معاشی اشاریئے مثبت رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملکیتی اداروں میں بہتری لانا حکومتی ذمہ داری ہے، گزشتہ تین سالوں میں ان اداروں کے خساروں میں کمی آئی ہے، مختلف شعبوں میں گورننس مزید موثر بنانے کیلئے اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 25کروڑ کی آبادی کو حکومت براہِ راست روزگار فراہم نہیں کر سکتی، اس کیلئے نجی شعبے کو فعال بنانا ہوگا، کچھ کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہوئی تاہم مجموعی طور پر اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نجکاری پالیسی پر گامزن ہے، پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی شفاف انداز میں نجکاری کی گئی، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ نجکاری عمل کو مکمل شفافیت کیساتھ آگے بڑھایا جائے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سرکاری اداروں میں تعینات کئے جانے والے چیئرپرسن یا چیئرمین کا تعلق نجی شعبے سے ہے تاکہ پیشہ ورانہ مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے، بعض ایسے ادارے جو مسلسل خسارے میں جا رہے تھے انہیں بند کیا جا چکا ہے یا بند کرنے کا عمل جاری ہے جبکہ متاثرہ ملازمین کو پیکیج دیئے گئے ہیں۔


