بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کی ایک ترجمان نے بدھ کے روز امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایک چین کے اصول اور چین اور امریکہ کے درمیان تین مشترکہ اعلامیوں کی پاسداری کرے اور تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرے۔
ریاستی کونسل کے امور تائیوان دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے ان خیالات کا اظہار تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت سے متعلق میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کیا۔
ژو فینگ لیان نے زور دے کر کہا کہ اپنے خود غرضانہ سیاسی مفادات کے حصول کے لئے ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کے حکام امریکی اسلحہ ڈیلروں کے لئے ‘کیش مشین’ بننے اور خیالی بیرونی ‘تحفظ’ کی بھیک مانگنے کے لئے تیار ہیں۔ اس طرح کے رویے تائیوان کو مزید خطرناک صورتحال سے دوچار کریں گے اور تائیوان کے ہم وطنوں کے لئے سنگین تباہی لائیں گے۔
امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کے حصول کے لئے تائیوان کے خصوصی دفاعی بجٹ سے متعلق ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ژو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تائیوان کا معاملہ مکمل طور پر چینی عوام کا معاملہ ہے اور اس میں کسی بیرونی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر محتاط انداز میں عمل کرے، "تائیوان کی آزادی” کے خواہاں علیحدگی پسند عناصر کو غلط اشارے بھیجنا بند کرے اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔
ژو نے مزید کہا کہ ڈی پی پی کے حکام کی امریکہ کے ساتھ ملی بھگت کر کے فوجی ذرائع سے علیحدگی حاصل کرنے کی کوششیں یقیناً ناکامی پر منتج ہوں گی۔


