پیر, فروری 9, 2026
ہومتازہ ترین2025 کے دوران چین کی معاشی کارکردگی عالمی تناظر میں مفروضوں کے...

2025 کے دوران چین کی معاشی کارکردگی عالمی تناظر میں مفروضوں کے بجائے اعداد و شمار سے ثابت

بیجنگ (شِنہوا) حالیہ مغربی رپورٹس میں یہ دعوے زیادہ دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ چین کی معیشت اپنی عروج پر پہنچ چکی ہے، جو اکثر ساختی رکاوٹوں کے خدشات سے جوڑے جاتے ہیں۔ اسی دوران دنیا کے مختلف ممالک کے سالانہ اقتصادی اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں، جس نے ایک وسیع تر حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ عالمی بحالی غیر یکساں ہے اور ترقی کے راستے مختلف ہیں۔

اس پس منظر میں چین کی 2025 کی اقتصادی کارکردگی کا بہتر اندازہ مفروضوں کے بجائے اعداد و شمار کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے۔

چین کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافہ ہوا۔ جی 20 کی ان معیشتوں میں جنہوں نے اب تک اپنے اعداد و شمار جاری کئے ہیں، بیشتر کی شرح نمو 2 فیصد سے کم رہی جبکہ جرمنی، فرانس اور اٹلی میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی۔

عالمی معاشی دباؤ اور بتدریج غیر ہموار بحالی کے پس منظر میں چین کے حجم کی معیشت کے لئے اس نوعیت کی توسیع کوئی معمولی کامیابی نہیں بلکہ یہ ملک کی معاشی لچک اور صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔

چین نے 2025 کے دوران معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کی معیشت میں ہونے والا اضافہ تقریباً بیلجیم کی مجموعی معاشی پیداوار کے برابر تھا۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ایک معیشت کے لئے اس نوعیت کا سالانہ اضافہ عالمی معاشی نمو میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

چین کی معیشت حجم کے اعتبار سے مسلسل پھیلتی رہی۔ 2025 میں اس کی جی ڈی پی 1400 کھرب یوآن (تقریباً 201.6 کھرب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی، جو جرمنی، جاپان، بھارت، برطانیہ اور اٹلی کی مشترکہ معیشتوں کے برابر ہے۔ ایک انتہائی بڑی معیشت ہونے کے ناطے یہ پیمانہ چین کو خطرات کا مقابلہ کرنے اور طویل مدت تک مثبت رفتار برقرار رکھنے کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

علاقائی سطح پر معاشی سرگرمیاں مجموعی طور پر وسیع بنیادوں پر قائم رہیں۔ 2025 میں چین کے صوبوں شان ڈونگ، گوانگ ڈونگ اور جیانگسو میں سے ہر ایک کی جی ڈی پی 100 کھرب یوآن (تقریباً 14.4 کھرب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی، جو تقریباً سعودی عرب کی معیشت کے برابر ہے اور اس سے چین کی صوبائی سطح کی معیشتوں کے نمایاں معاشی حجم کا اظہار ہوتا ہے۔

بیجنگ اور شنگھائی دونوں نے 50 کھرب یوآن (تقریباً 720 ارب امریکی ڈالر) سے زائد جی ڈی پی ریکارڈ کی، جو حجم کے اعتبار سے تقریباً ارجنٹائن کی معیشت کے برابر ہے اور یہ چین کی شہری ترقی، صنعتی ارتکاز اور اعلیٰ معیار کی ترقی سے حاصل ہونے والے نمایاں فوائد کو اجاگر کرتا ہے۔

چین میں اب 29 شہر ایسے ہیں جن کی جی ڈی پی 10 کھرب یوآن (تقریباً 144 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی ہے اور ہر ایک کی معیشت تقریباً کینیا کی قومی معیشت کے برابر ہے، جو چین کی شہری اور علاقائی معیشتوں کی مضبوط رفتار اور پائیدار بنیادوں کو اجاگر کرتی ہے۔

اس وقت جب عالمی معیشت کو استحکام، یقینی صورتحال اور ترقی کے نئے ذرائع کی ضرورت ہے، چین کی معیشت مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے اور عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی شراکت کے ساتھ عالمی ترقی کے لئے مسلسل اعتماد اور رفتار مہیا کرتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!