جمعرات, فروری 5, 2026
ہومتازہ ترینچین نے کمپریسڈ ایئر انرجی سٹوریج ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت حاصل...

چین نے کمپریسڈ ایئر انرجی سٹوریج ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت حاصل کر لی

بیجنگ (شِنہوا) چین نے کمپریسڈ ایئر انرجی سٹوریج (سی اے ای ایس) ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت حاصل کر لی ہے اور ایک انجینئرنگ ٹیم نے دنیا کا سب سے طاقتور سی اے ای ایس کمپریسر تیار کر لیا ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنس (سی اے ایس) کے مطابق یہ کمپریسر سی اے ایس کے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ تھرموفزکس اور ژونگ چھو گو نینگ (بیجنگ) ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ یہ سی اے ای ایس نظام کا ایک اہم جزو ہے جس میں بجلی کی طلب کم ہونے کے دوران ہوا کو زیر زمین غار میں پمپ کیا جاتا ہے جبکہ طلب میں اضافے کے وقت دبائی گئی ہوا کو چھوڑ کر بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

تجرباتی نتائج کے مطابق یہ کمپریسر 10.1 ایم پی اے تک زیادہ سے زیادہ ڈسچارج پریشر اور 101 میگا واٹ کی بلند ترین پیداواری صلاحیت حاصل کرتا ہے۔ یہ 38.7 فیصد سے 118.4 فیصد تک کے وسیع لوڈ رینج میں کام کر سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ڈسچارج پریشر پر اس کی کارکردگی 88.1 فیصد ہے جو عالمی سطح پر ایک نمایاں معیار کی عکاسی کرتی ہے۔

سی اے ایس کے مطابق یہ دنیا کا پہلا سی اے ای ایس کمپریسر ہے جس کی واحد یونٹ پاور 100 میگا واٹ سے زیادہ ہے۔ موجودہ سی اے ای ایس کمپریسرز کے مقابلے میں نیا نظام بجلی کی پیداوار کو دوگنا سے بھی زیادہ کر دیتا ہے جبکہ فی یونٹ لاگت میں نمایاں کمی لاتا ہے۔ یہ اپنی بلند کارکردگی، زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور وسیع آپریٹنگ رینج کی بدولت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

چین قابل تجدید توانائی کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز کی ترقی کو تیز کر رہا ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام شمسی یا ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی غیر مستقل پیداوار کو مستحکم بنانے میں مدد دیتے ہیں جس سے بجلی کے گرڈ میں قابل تجدید توانائی کا زیادہ حصہ شامل کرنا ممکن ہوتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!