جمعہ, جنوری 30, 2026
ہومتازہ ترینشنگھائی میں چلی کی چیری کا شاندار فیسٹیول،   چینی مارکیٹ میں طلب...

شنگھائی میں چلی کی چیری کا شاندار فیسٹیول،   چینی مارکیٹ میں طلب بڑھ گئی

شنگھائی میں اختتامِ ہفتہ پر چلین چیری آئس اینڈ سنو فیسٹیول کا انعقاد کیا گیاہے۔

یہ دو روزہ فیسٹیول چلی فروٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور چائنیز ای کامرس پلیٹ فارم ڈِنگ ڈونگ مائکائی نے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقد کیا۔

چین کئی برسوں سے چلی کی چیری کا سب سے بڑی منڈی رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025-2024 کے سیزن میں چلی نے تقریباً 3 ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر کی چیری چین برآمد کی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): چیرف کرسچین کارواجال، مارکیٹنگ ڈائریکٹر، چلین فروٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن برائے یورپ و ایشیا

"چین چلی کی چیری کے لئے ایک بہت اہم منڈی رہا ہے۔روایتی طور پر اسے نئے چینی سال کے موقع پر اعلیٰ معیار کے تحفے کے طور پر فروغ ملا اور اب بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اب یہ صرف تحفے کے لئے نہیں بلکہ مختلف کھانے کے اوقات میں اعلیٰ معیار کے سنیک کے طور پر بھی استعمال ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں چلی کے پھل ہمیشہ لوگوں کی خریداری میں دلچسپی بڑھانے کے لیے مختلف پروموشن اور مارکیٹنگ سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں اور ایسا چین کے بڑے، درمیانے اور چھوٹے شہروں میں کیا جاتا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ یہ شعبہ نہ صرف آج بلکہ آئندہ 10، 20 اور 30 برسوں تک مقبول رہے گا۔”

ڈنگ ڈونگ مائکائی کے اعداد و شمار کے مطابق چلی کی نئے سیزن کی چیری کی فروخت میں تقریباً 40 فیصد سالانہ اضافہ ہوا جبکہ قیمتیں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گئی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): یانگ ہائی شیا، سینئر ڈائریکٹر، پریمیم پراڈکٹ ڈویلپمنٹ، فروٹ ڈویژن، ڈِنگ ڈونگ مائکائی

"چلی کی چیری کی قیمتوں میں کمی کے دو اہم عوامل ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ پیداوار کے علاقوں اور کاشت کے دائرے میں اضافہ ہوا ہے۔دوسرا پیداوار سے ترسیل تک مجموعی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ پہلے ہم خریداری کے لئے درمیانی افراد اور ہول سیل مارکیٹ پر انحصار کرتے تھے۔ اب ڈِنگ ڈونگ مائکائی نے براہِ راست خریداری کا طریقہ اپنایاہے۔ ہمارا مکمل کولڈ چین سپلائی نظام پھل کو باغ سے صارف تک محفوظ طریقے سےپہنچاتا ہے جس سے وقت اور لاگت دونوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔”

شنگھائی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!