جمعہ, جنوری 30, 2026
ہومانٹرنیشنلکوئی بھی امریکی فوجی کارروائی جنگی اقدام تصور ہو گا، ایران

کوئی بھی امریکی فوجی کارروائی جنگی اقدام تصور ہو گا، ایران

تہران (شِنہوا) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک اعلیٰ مشیر نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی کی گئی تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی تیاریوں کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی انتہائی سطح پر ہے۔

ایران کی دفاعی کونسل میں رہبر اعلیٰ کے نمائندے علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے کوئی "محدود حملہ” محض ایک "اشارہ” ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی طرف سے کسی بھی ذریعے سے اور کسی بھی سطح پر کی جانے والی فوجی کارروائی کو جنگ کے آغاز کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کا جواب فوری، ہمہ گیر اور بے مثال ہوگا۔

شمخانی نے زور دیا کہ ایران کے ردعمل میں "جارح، تل ابیب کے مرکز اور جارح کے تمام حامیوں” کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی قیادت میں ایک "بڑا بحری بیڑا” ایران کی جانب بڑھ رہا ہے جو وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے۔ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے "وقت ختم ہوتا جا رہا ہے”۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!