امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب بلدیاتی ایکٹ کو غیر جمہوری و اختیارات سلب کرنے والا قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چہرے بدلنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہونگے، عوام، نوجوانوں کو منظم کر کے مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا ہوگا، ظالمانہ نظام کو بدلنے کی جدوجہد دین کا تقاضا ہے، ہجوم کے ذریعے انقلاب لانا فساد کو جنم دیتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک دینی اور سیاسی تحریک ہے، یہ جماعت کسی ذاتی مفاد یا اقتدار کیلئے نہیں بلکہ بڑے مقصد کیلئے بنی ہے، جماعت اسلامی بذات خود مقصد نہیں بلکہ ہم پورے نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78سالوں سے ملک میں چہرے اور جھنڈے بدلتے رہے مگر عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ناموں کیساتھ پل اور منصوبے بنائے جاتے ہیں جیسے یہاں بادشاہی نظام رائج ہو جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک کا نظام چند لوگوں کے ہاتھ میں ہے، ظالمانہ نظام کو بدلنے کی جدوجہد دین کا تقاضا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں پیدا ہونے والا بچہ آقا اور 40سال تک محنت کرنے والا شخص غلام بن جاتا ہے جبکہ انگریز کا بنایا ہوا بیوروکریسی کا نظام آج بھی ہم پر مسلط ہے، اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر مخصوص مائنڈ سیٹ بنا کر لوگوں کے ذہنوں کو قابو کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بڑی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں جاگیردار، وڈیرے اور سردار نمایاں نظر آتے ہیں، صرف چہرے بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، عوام اور نوجوانوں کو منظم کر کے مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی مزاحمت کے ذریعے آگے بڑھے گی، شارٹ کٹ سے حکومت تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر وہ حقیقی نہیں ہوتی، جو لوگ ہجوم کے ذریعے انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ دراصل فساد کو جنم دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ غیر جمہوری اور اختیارات سلب کرنے والا قانون ہے ایسے قوانین عوام کو مزید کمزور کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں کرپشن اور لوٹ مار مل جل کر ہوتی ہے، ایف بی آر کو پیش کئے گئے اثاثوں اور حقیقی لائف سٹائل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، عوام سے سالانہ 2200ارب روپے صرف کیپیسٹی چارجز کے نام پر وصول کئے جا رہے ہیں ہر بڑی سیاسی جماعت میں آئی پی پیز مافیا موجود ہے، آئی پی پیز سے کئے گئے ظالمانہ معاہدوں کا حساب کون دے گا؟۔


