سپریم کورٹ نے غلط برطرفی کا شکار ملازم کو پچھلے تمام واجبات پانے کے حقدار قرار دیتے ہوئے بقایاجات ادائیگی فیصلے کیخلاف سرکاری اپیلیں مسترد کر دیں جبکہ ریمارکس دیئے ہیں کہ صوابدیدی اختیارات کا استعمال مقدس امانت جسے محض ذاتی پسند ناپسند کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، غیر منصفانہ، متعصبانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ نے تحریری فیصلے میں پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور جبکہ خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کالعدم قرار دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی جانب سے تحریری فیصلے میں ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے، آئین کا آرٹیکل 9زندگی کی ضمانت دیتا ہے جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے، غلط برطرفی کا شکار ملازم مکمل واجبات حاصل کرنے کا حقدار ہے، اب حاکمیت کے کلچر کی بجائے جواز کے کلچر کی ضرورت ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے ہر فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔
صوابدیدی اختیارات کا استعمال مقدس امانت ہے جسے محض ذاتی پسند ناپسند کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، غیر منصفانہ، متعصبانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملازم کا یہ کہنا ہی کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بیگناہی ثابت کرنے کیلئے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا، ملازم کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے، نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد پچھلے واجبات روک لئے تھے جبکہ خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل نے پولیس اہلکاروں کو پچھلے واجبات دینے سے انکار کردیا تھا۔


