جمعہ, جنوری 30, 2026
ہومتازہ ترینمصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال پر عالمی اقتصادی فورم کے منیجنگ ڈائریکٹر...

مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال پر عالمی اقتصادی فورم کے منیجنگ ڈائریکٹر کا چین کو خراج تحسین

عالمی اقتصادی فورم کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر اسٹیفن مرگنتھالر نے ڈیووس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چین میں مصنوعی ذیانت کو مختلف شعبوں میں حقیقی مسائل کے حل کے لئے استعمال کرنے کا فعال اور متحرک رجحان دیکھ رہے ہیں جو کہ بے حد متاثر کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ فورم نے مائنڈز کے نام سے ایک عالمی انیشی ایٹو شروع کیا ہے جس کا مطلب ہے "بامعنی، ذہین، جدید اور قابلِ عمل حل”۔ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والی ان تبدیلیوں کی نشاندہی اور پذیرائی کرنا ہے جو حقیقی اور قابلِ محسوس اثرات پیدا کر رہی ہیں۔

عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ گزشتہ برس پہلی کھیپ کے آغاز کے بعد اب چین مصنوعی ذہانت کے تسلیم شدہ منصوبوں میں سے تقریباً نصف کی نمائندگی کر رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): سیٹفن مرگنتھالر، منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ٹیکنالوجی آفیسر، عالمی اقتصادی فورم

"میرا خیال ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال میں مضبوط سرمایہ کاری اور چین کے ایکو سسٹم میں اس متحرک عمل کا عکاس ہے جس کے تحت مختلف شعبوں میں حقیقی مسائل حل کئے جا رہے ہیں۔ اور ہمیں خوشی ہے کہ ان نمایاں مثالوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسا موقع فراہم کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے مختلف فریقین یہ سیکھ سکیں کہ مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کو کس طرح کامیابی سے بروئے کار لایا جائے۔

یہ بات واضح ہے کہ رواں برس بھی ڈیووس میں جمع ہونے والے بہت سے رہنماؤں کے لئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سرِ فہرست موضوع ہے اور یقیناً انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور بعض جدید ترین ماڈلز میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم طویل مدتی ترقی کے لئے اصل اہم سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ان صلاحیتوں کو معیشت کے مختلف شعبوں میں کس طرح مؤثر طریقےسے نافذ کیا جائے اور ان کے ذریعے بڑے پیمانے پر پیداواری فوائد حاصل کئے جائیں۔”

ڈیووس، سوئٹزرلینڈ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر زور

منیجنگ ڈائریکٹر سیٹفن مرگنتھالر نے چین کی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو سراہا

چین مختلف شعبوں میں مسائل کے حقیقی حل پیش کر رہا ہے

عالمی اقتصادی فورم نے ’مائنڈز ‘ کے نام سے عالمی انیشی ایٹو کا آغاز کر دیا

’مائنڈز‘ کا مطلب ہے بامعنی، ذہین، جدید اور قابلِ عمل حل

مصنوعی ذہانت کو عالمی سطح پر اپناننے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی

چین کو مصنوعی ذہانت منصبوں میں تقریباً نصف کا کریڈٹ حاصل ہے

سیٹفن مرگنتھالر چین میں مصنوعی ذہانت کے متحرک رجحان پر مطمئن ہیں

فریقین مصنوعی ذہانت اپنانے کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں

مستقبل کی معاشی ترقی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جُڑی ہے

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!