امریکا کا جدید طیارہ بردار بحری بیڑہ ابراہم لنکن خطے کی سمندری حدود میں داخل ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور جنگ کے خطرات مسلسل منڈلا رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس کیریئر سٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، میزائل کروزر اور جدید ڈسٹرائرز شامل ہیں جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم امریکی اتحادی ممالک نے فی الحال فوجی کارروائی موخر کرنے پر زور دیا ہے، اس کے باوجود امریکی فوج نے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دبائو کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے، امریکی جنگی جہازوں کی آمد ایرانی قوم کے دفاع کو متاثر نہیں کر سکتی۔


