منگل, جنوری 27, 2026
ہومانٹرنیشنلاٹلی اور ناروے کے وزرائے اعظم کی افغانستان میں نیٹو کے کردار...

اٹلی اور ناروے کے وزرائے اعظم کی افغانستان میں نیٹو کے کردار کے متعلق ٹرمپ کے بیانات کی مذمت

روم (شِنہوا) اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی اور ان کے نارویجن ہم منصب جونس گہر سٹور نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے علاوہ دیگر نیٹو فوجی افغانستان میں اگلے محاذوں پر نہیں لڑے۔

اپنے بیان میں میلونی نے یاد دلایا کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملے کے بعد نیٹو نے امریکہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے اپنی تاریخ میں پہلی اور واحد بار آرٹیکل 5 فعال کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اٹلی نے اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری ردعمل دیا تھا، ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا تھا اور علاقائی مغربی کمانڈ کی مکمل ذمہ داری سنبھالی تھی جو پورے بین الاقوامی مشن کے سب سے اہم آپریشنل علاقے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اٹلی نے اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی۔ 20 سالوں کے دوران جنگی کارروائیوں، سکیورٹی مشنز اور افغان فورسز کے تربیتی پروگرامز میں ہمارے 53 فوجی ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسی وجہ سے ایسے بیانات جو افغانستان میں نیٹو کے ممالک کی شراکت کو کم ظاہر کریں، ناقابل قبول ہیں، خاص طور پر جب وہ کسی اتحادی ملک کی طرف سے دئیے جائیں۔

ناروے کے وزیراعظم سٹور نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات بے احترامی پر مبنی ہیں۔

جونس گہر سٹور نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ افغانستان میں ہلاک ہونے والے فوجی، ان کے لواحقین اور وہاں خدمات انجام دینے والے اہلکار سچائی اور احترام کے ساتھ مخاطب ہونے کے مستحق ہیں، امریکی صدر کا بیان بے احترامی پر مبنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سابق فوجی اور ان کے اہل خانہ اس پر سخت ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!