سپریم کورٹ نے کرایہ داری بارے اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث ازخود مالک تصور ہونگے، نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں۔
پیر کو سپریم کورٹ کے جسٹس شکیل احمد نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا بے دخلی فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس دے کر کرایہ اور بقایاجات ادا کرنے کا مطالبہ کیا، کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا مگر قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا، نوٹس کے باوجود کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔
فیصلہ میں کہا گیا کہ قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کیخلاف بے دخلی کی درخواست دائر کی۔
کرایہ داروں کا موقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں۔
سپریم کورٹ کے مطابق نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونا ادائیگی تصور نہیں ہوتا، قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے، جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔


