منگل, جنوری 27, 2026
ہومانٹرنیشنلحسینہ واجد کو نئی دہلی میں خطاب کی اجازت پر بنگلادیش کا...

حسینہ واجد کو نئی دہلی میں خطاب کی اجازت پر بنگلادیش کا شدید احتجاج

بھارت کی جانب سے سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو نئی دہلی میں عوامی تقریب سے خطاب کی اجازت دی گئی جس پر بنگلادیش نے شدید احتجاج کیا ہے اور اسے بنگلادیشی عوام کی توہین قرار دیا ہے۔

بنگلادیشی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انسانیت کیخلاف جرائم میں سزا یافتہ اور مفرور شیخ حسینہ کو اس طرح بولنے کا موقع دینا بنگلادیش کے امن، سلامتی اور جمہوری عمل کیلئے خطرہ ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق 23جنوری کو شیخ حسینہ نے نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران بنگلادیش میں اپنے حامیوں سے آڈیو خطاب کیا جس میں انہوں نے موجودہ حکومت کیخلاف کھلی اشتعال انگیزی کی اور اپنے وفاداروں کو آئندہ عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے پر اکسانے کی کوشش کی۔

بیان میں کہا گیا کہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عبوری حکومت کو انکی سرگرمیوں پر پابندی کیوں عائد کرنا پڑی۔

وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ انتخابات سے قبل اور پولنگ کے دن کسی بھی قسم کے تشدد یا دہشتگردی کی ذمہ داری اسی گروہ پر عائد ہوگی۔

بنگلادیشی حکام نے اس بات پر حیرت اور شدید مایوسی کا اظہار کیا کہ بھارت نے نہ صرف شیخ حسینہ کو اپنی سرزمین پر رہنے دیا بلکہ انہیں عوامی خطاب کی اجازت بھی دی جو دوطرفہ تعلقات اور باہمی اعتماد کیلئے نقصان دہ ہے، بنگلادیش بارہا درخواست کے باوجود بھارت کی جانب سے حوالگی کے معاہدہ پر عمل نہ ہونے پر سخت مایوس ہے، اس طرزِ عمل سے دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور یہ ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!