پیر, جنوری 26, 2026
ہومتازہ ترینچینی ساختہ سولر مصنوعات افریقہ کی ماحول دوست منتقلی میں محرک بن...

چینی ساختہ سولر مصنوعات افریقہ کی ماحول دوست منتقلی میں محرک بن رہی ہیں،  ماہر کی رائے

افریقہ بھر میں ماحول دوست توانائی کے استعمال میں تیزی آ گئی ہے جس کی بڑی وجہ چین سے دستیاب معیاری اور کم قیمت شمسی حل ہیں۔ یہ بات کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں منگل کے روز ایک کاروباری ماہر نے کہی۔

اے ایچ کے سروسز ایسٹرن افریقہ لمیٹڈ میں کمپٹینس سینٹر برائے توانائی، ماحولیات اور پائیدار معیشت کے پراجیکٹ منیجر جارج پفلوم نے کہا ہے کہ چین میں تیار شدہ شمسی مصنوعات نے افریقہ میں توانائی کے تنوع اور تحفظ کو فروغ دیا جہاں کم کاربن ترقی کو آگے بڑھانے کا زبردست جذبہ پایا جاتا ہے۔

پفلوم نے کہا کہ حالیہ برسوں میں شمسی توانائی کے شعبے کے کئی عالمی کھلاڑی چین سے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں اعلیٰ معیار کے اجزاء بھی تیار کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین عالمی سطح پر سولر حل کی پیداوار اور تقسیم کے عمل میں بدستور ایک اہم کھلاڑی ہے۔ یہ افریقی ممالک کو اپنے قومی گرڈ میں ماحول دوست توانائی کے نفاذ کو بڑھانے میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): جارج پفلوم، پراجیکٹ منیجر، کمپٹینس سینٹر انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ سسٹین ایبل اکانومی، اے ایچ کے سروسز ایسٹرن افریقہ لمیٹڈ

"عالمی سولر مارکیٹ میں بلاشبہ چینی کمپنیاں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چین سے آنے والی سولر حل کی پیداوار اور تقسیم کے مختلف شعبوں میں کئی مارکیٹ لیڈرز ہیں۔ چین کی شمسی توانائی کی صنعت بہت مضبوط اور متاثر کن ہے۔”

پفلوم کے مطابق افریقی ممالک نے سال 2024 میں 2.4 گیگاواٹ نئی سولر صلاحیت نصب کی جبکہ سال 2025 میں نئی تنصیبات میں 42 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جارج پفلوم، پراجیکٹ منیجر، کمپٹینس سینٹر انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ سسٹین ایبل اکانومی، اے ایچ کے سروسز ایسٹرن افریقہ لمیٹڈ

"ہم نے 2 اعشاریہ 4 گیگاواٹ صلاحیت میں اضافہ دیکھا ہے جو واقعی بہت بڑا ہے۔ اس وقت افریقہ میں مجموعی طور پر تقریباً 20 گیگاواٹ سولر صلاحیت نصب ہو چکی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ سال 2028 تک اس میں مزید 23 گیگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔ یوں اگلے تین یا چار برسوں میں مجموعی صلاحیت دگنی ہو جائے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سولر توانائی کی مانگ واقعی بہت زیادہ ہے، یہ ایک نہایت اہم شعبہ ہے اور اس کی ترقی بے حد متاثر کن ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ براعظم میں اس وقت نصب سولر صلاحیت آئندہ تین یا چار برسوں میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افریقہ کی دو بڑی سولر منڈیاں جنوبی افریقہ اور مصر ہیں جبکہ مشرقی افریقہ کے ممالک خصوصاً کینیا بھی اسی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

نیروبی سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین کی سولر ٹیکنالوجی سے افریقہ میں ماحول دوست توانائی کو فروغ ملا ہے

چینی سولر مصنوعات سےافریقہ میں توانائی کو تنوع اور تحفظ مل رہا ہے

کم لاگت اور معیاری سولر حل افریقہ کی کم کاربن ترقی میں مددگار ہیں

افریقہ میں سولر توانائی کی تنصیب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا

چین عالمی سولر ویلیو چین میں اہم اسٹریٹجک کردار ادا کر رہا ہے

افریقہ کو گزشتہ برس 2.4 گیگاواٹ نئی سولر صلاحیت حاصل ہوئی

توقع ہے آئندہ برسوں میں افریقہ کی سولر صلاحیت دوگنی ہو جائے گی

جنوبی افریقہ اور مصر افریقہ کی سب سے بڑی سولر منڈیاں بن چکے ہیں

مشرقی افریقی ممالک بھی ماحول دوست توانائی کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں

کم کاربن مستقبل کے لئے سولر توانائی افریقہ کی اہم ضرورت بن چکی ہے

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!