این ڈی ایم اے پاکستان کے زیر اہتمام اقتصادی تعاون تنظیم کا دو روزہ دسواں ای سی او وزارتی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، ای سی او رکن ممالک نے آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے علاقائی تعاون اور مشترکہ اقدامات کو مزید موثر و مربوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، اجلاس کی صدارت چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی جو پاکستان کی جانب سے پہلی بار آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے تدارک کے حوالے سے ای سی او اجلاس کی میزبانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اعلامیہ ای سی او ممالک کے عوام کے تحفظ کا مشترکہ عزم ہے، پاکستان این ای او سی کے ذریعے ای سی او ممالک کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔
اجلاس میں رکن ممالک کے وزراء اور سینئر حکام سمیت متعلقہ عالمی و علاقائی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اختتامی تقریب میں وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور انکے باعث آنیوالی آفات آج کی حقیقت ہیں۔
اجلاس میں 21جنوری کے اعلی سطح ورکنگ گروپ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی، اجلاس کے دوسرے روز ای سی او وژن 2025 اور سینڈائی فریم ورک سے ہم آہنگ اسلام آباد کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، آذربائیجان کے نائب وزیر ایمرجنسی حالات نے آفات اور موسمیاتی خطرات کی بڑھتی ہوئی شدت سے نمٹنے کیلئے علاقائی ہم آہنگی ، کرغزستان کے نائب وزیر نے مشترکہ تیاری، صلاحیت سازی اور پیشگی آگاہی اور تیاری کے موثر اور مربوط نظام کی ضرورت پر زور دیا، تاجکستان کے نائب چیئرمین نے موسمیاتی تبدیلیوں کو آفات اور خطرات میں شدت کی بڑی وجہ قرار دیا۔
ترکیہ کے سربراہ آفاد نے مشترکہ تربیت، فرضی مشقوں اور زلزلہ کے حوالے سے معلومات کے فوری تبادلہ کیلئے اقدامات تجویز کئے، ازبکستان کے نائب وزیر نے ادارہ جاتی تعاون اور عملی اقدامات پر زور دیا، پاکستان نے ای سی او خطے میں آفات اور ممکنہ خطرات کے تدارک کیلئے جدید اور جامع حکمت عملی تشکیل دینے کے عزم کا اعادہ کیا، این ڈی ایم اے کے ممبر ڈی آر آر محمد ادریس محسود نے این ای او سی کے ذریعے پیشگی آگاہی اور تیاری کیلئے اقدامات پر زور دیا، ترکمانستان اور ایران نے ای سی او لائحہ عمل کے تحت علاقائی تعاون کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
پاکستان کی جانب سے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کو ای سی او ممالک کیلئے آفات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کی پیشکش کی گئی، رکن ممالک نے این ڈی ایم اے کے این ای او سی ماڈل کو خطے میں مشترکہ طور پر فعال بنانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں مشترکہ تربیتی پروگرامز اور جامع بین الاقوامی فرضی مشقوں کے انعقاد، ای سی او ممالک کیلئے تمام ممکنہ آفات اور علاقائی سطح پر خطرات کی تشخیص کی منظوری دی گئی جبکہ تلاش اور بچاؤ کے اقدامات کیلئے صلاحیتی دائرہ کار، سامان کی ترسیل اور امدادی اقدامات میں مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا گیا، ای سی او رکن ممالک میں بچوں کیلئے آفات اور ممکنہ خطرات سے متعلق کارٹون ویڈیو منصوبے کا اجرا کیا گیا، اجلاس میں خواتین، نوجوانوں لڑکیوں، معذور افراد اور دیگر کمزور طبقات کو بااختیار بنانے پر زور، جامع حکومتی و سماجی اشتراک سے آفات اور موسمیاتی خطرات کے تدارک کیلئے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا، ای سی او رکن ممالک نے تمام اقدامات کو ای سی او لائحہ عمل 2035 کے مطابق جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، ای سی او سیکرٹریٹ کے ذریعے آفات سے نمٹنے اور خطرات کے تدارک کے حوالے سے تمام منصوبوں کی پیشرفت کے جائزہ کے موثر لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔


