پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرز کیساتھ مبینہ فراڈ کا واقعہ پیش آیا ہے تاہم انہوں نے کسی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج کروائی نہ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ سے مسئلہ حل کروانے کیلئے رابطہ کیا اور سابق کپتان کی دیکھا دیکھی کاروباری شخص کیساتھ سرمایہ کاری کی، موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کے نام بھی شامل ہیں جبکہ بعض کرکٹرز نے کاروباری شخص کیساتھ براہ راست بھی سرمایہ کاری کی اور اپنے کروڑوں روپے ڈبل منافع کے چکر میں مبینہ طور پر دیدئیے، کرکٹرز کو آغاز میں منافع بھی ملتا رہا بعد میں کاروباری شخص منظر سے غائب ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق فراڈ کرنیوالا شخص امریکا میں رہائش پذیر ہے، اسکی کئی پاکستانی کرکٹر سے دوستی تھی، کرکٹرز کا دعویٰ ہے کہ اب اس شخص کا فون بند ہیم، اصل رقم واپس لینا چاہتے ہیں لیکن فراڈ کرنیوالے شخص سے رابطہ نہیں ہو رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹرز نے چند ہفتے قبل اس سے متعلق کوششیں کیں اور بعض کو کچھ پیسے واپس بھی ملے ہیں، کرکٹرز کا ایک مشہور ایجنٹ بھی رقم سے محروم ہونیوالوں میں شامل ہے۔
دوسری جانب کھلاڑیوں نے بتایا ہے کہ ہم نے کمپنی میں انوسٹمنٹ کی تھی، ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا۔
کھلاڑیوں نے موقف اختیار کیا کمپنی ہم سے رابطے میں ہے، مارچ تک تمام پے منٹ کلیئر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، صرف 2چیک بائونس ہوئے ہیں، اس سلسلے میں چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے بھی رابطہ کیا ہے، کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے کہا کہ ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر کچھ ہوا تو بتا دینگے۔
کھلاڑیوں نے چیئرمین پی سی بی کو بتایا کہ مارچ تک پیمنٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، کمپنی کا مالک دبئی میں ہے اور ہم سے رابطے میں ہے۔


