اوسلو (شِنہوا) ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوک راسموسن نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حالیہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ گرین لینڈ کے معاملے پر مذاکرات انتہائی مشکل ہوں گے جبکہ انہوں نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ڈنمارک امریکہ کی طرف سے آرکٹک خطے کے اس علاقے کو حاصل کرنے کے حوالے سے بات چیت پر رضامند ہو گیا ہے۔
انہوں نے یہ بیان وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے اس بیان کے بعد دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈینش اور امریکی نمائندوں نے واشنگٹن میں بات چیت کے بعد گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے حوالے سے تکنیکی بات چیت جاری رکھنے کے لئے ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے ڈینش نشریاتی ادارے ٹی وی 2 کو بتایا کہ ڈنمارک نے اس بات پر کوئی اتفاق نہیں کیا کہ ایسا کوئی تکنیکی گروپ قائم کیا جائے جو اس امر پر غور کرے کہ امریکہ گرین لینڈ کو کیسے حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ ورکنگ گروپ کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کیسے آرکٹک خطے میں امریکہ کے سکیورٹی خدشات دور کر سکتے ہیں لیکن یہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے اصولی موقف کے تحت ہی ہوگا۔


