بیجنگ (شِنہوا) چیٹ بوٹس سے لے کر خود کار گاڑیوں تک، مصنوعی ذہانت (اے آئی) چین میں کام کرنے کے انداز کو بدل رہی ہے، جس سے ایک طرف کارکردگی بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف صنعتی حدود نئے سرے سے متعین ہو رہی ہیں۔ تاہم اس تبدیلی نے ملازمتوں کے چھن جانے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے اور ایسے کارکن، جن میں اسمبلی لائن کے آپریٹرز سے لے کر ڈیزائنرز اور مترجم شامل ہیں، پہلے ہی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔
ماہرین معاشیات قلیل مدتی خلل کو تسلیم کرتے ہوئے یہ مانتے ہیں کہ اے آئی ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ایسی تبدیلی لانے والی قوت ہے جو ٹیکنالوجی کے سابقہ انقلابات کی طرح لیبر مارکیٹ کی تشکیل نو کرے گی اور نئے پیشوں اور کام کے ماڈلز کو جنم دے گی۔
چین کے پالیسی ساز اپنی طرف سے اے آئی کی ترقی کی رہنمائی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ روزگار پر اس کے اثرات کو کم کیا جا سکے جبکہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ اس کا مقصد ایک ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی سے نمٹنے کے لئے بہتر طور پر لیس ہو اور منتقلی کے عمل سے گزرتی ہوئی معیشت کو سہارا دے سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے کارکنوں کے متاثر ہونے کے خدشات کوئی نئی بات نہیں۔ بھاپ کے انجن سے لے کر میکانائزیشن تک ہر بڑی تکنیکی پیشرفت نے اسی طرح کے خوف کو جنم دیا ہے۔
تھنک ٹینک ڈی آر سی نیٹ کے ایک تجزیہ کار وو جی نے کہا کہ اگرچہ کچھ روایتی کردار آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں لیکن اے آئی پیداواری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور نئی صنعتوں کے لئے جگہ پیدا کرتا ہے جس سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور مستقبل میں روزگار کی تعریف بدل رہی ہے۔


