لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر ہسپتال کے قریب نہر سے درختوں کی کٹائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ناصر باغ سمیت معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی جبکہ ریمارکس دیئے ہیں کہ متعدد بار درختوں کی کٹائی روکنے، پارکس کو ریسٹورنٹس کیلئے استعمال نہ کرنے کا حکم دیا، اقدام پر پر ایس ایچ او کو بلا کر پرچہ درج کرائوں گا۔
جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون سمیت دیگر کی سموگ تدارک بارے درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹرز ہسپتال کے سامنے نہر کے کنارے درخت کاٹے گئے ہیں۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد بار درختوں کی کٹائی سے روکنے کا حکم دیا ہے، درختوں کی کٹائی پر ایس ایچ او کو بلا کر پرچہ درج کرائوں گا، معاملے کی تحقیقات کرائی اور سوموار کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ پارکس کو ریسٹورنٹس کیلئے استعمال نہ کیا جائے ،پی ایچ اے کو پارکس کے حوالے سے پالیسی بنانے کا کہا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ناصر باغ کے بارے میں کیا رپورٹ ہے، وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ ناصر باغ میں پارکنگ پلازہ کی آئینی حیثیت چیلنج کردی گئی ہے۔
عدالت نے ماہرین کو ناصر باغ کے حوالے سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ناصر باغ کا معاملہ عدالت کی نگرانی میں مکمل ہوگا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ گلی محلوں میں واشنگ سٹیشنز پر کارروائی کیوں نہیں کی جارہی، کیوں ان سروس سٹیشنز کو جرمانے نہیں کئے جارہے ہیں؟۔
عدالت نے محکمہ ماحولیات سے صنعتی یونٹس کی آلودگی سے متعلق رپورٹ طلب کی جس پر محکمہ ماحولیات کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر 141صنعتی یونٹس کو بند کیا گیا ہے، اب آلودگی یا دھواں چھوڑنے کی کوئی شکایت نہیں ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی ماحولیات اچھا کام کر رہے ہیں جبکہ بڑی مشکل سے صنعتی یونٹس میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگوائے گئے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ان یونٹس کی فزیکل انسپکشن لازمی ہونا چاہئے۔
عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔


