اتوار, جنوری 11, 2026
ہومتازہ ترین2025 کے دوران چین کی اہم تجارتی راہداری کے ذریعے مال برداری...

2025 کے دوران چین کی اہم تجارتی راہداری کے ذریعے مال برداری کے حجم میں ریکارڈ اضافہ

نان ننگ (شِنہوا) چین کی نئی بین الاقوامی زمینی- بحری تجارتی راہداری کی ریل سروس نے 2025 کے دوران مال برداری کے حجم میں ریکارڈ 14 لاکھ 25 ہزار، بیس فٹ مساوی یونٹس (ٹی ای یوز) کی ترسیل کی جو 47.6 فیصد اضافہ ہے اور پہلی بار 10 لاکھ ٹی ای یوزکے سنگ میل کو عبور کیا۔

چائنہ ریلوے نان ننگ گروپ نے بتایا کہ مجموعی حجم میں سے 7 لاکھ ایک ہزار ٹی ای یوز مغربی علاقوں جیسے سیچھوان، چھونگ چھنگ اور یون نان سے بےبو خلیج بندرگاہ اور ژان جیانگ بندرگاہ سمیت جنوبی بندرگاہوں کو منتقل کئے گئے جو 40.4 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی دوران بندرگاہوں سے اندرونی مغربی علاقوں تک 7 لاکھ 24 ہزار ٹی ای یوز بھیجے گئے جو 55.3 فیصد نمایاں اضافہ ہے۔

مسابقت بڑھانے کی خاطر چائنہ ریلوے نان ننگ گروپ نے کنٹینر ٹرانسپورٹ کے لئے منظور شدہ مال کی اقسام کی فہرست کو 11 ہزار سے زائد اشیاء تک بڑھا دیا ہے جس میں تقریباً تمام وہ اشیاء شامل ہیں جو کنٹینرز کے لئے موزوں ہیں۔ آپریٹر نے مقررہ ریل روٹس کی تعداد بھی بڑھا کر 44 کر دی ہے جو 2024 کے آخر کے مقابلے میں 21 زائد ہیں۔

یہ راہداری اب چین-یورپ ریلوے ایکسپریس اور چین-وسطی ایشیا مال بردار ٹرینوں کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے منسلک ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں عام تجارتی سامان کے لئے بےبو خلیج بندرگاہ-چھنگ دو-پولینڈ/جرمنی، غلے اور تیل کے لئے ہائی نان-چھن ژو-شی آن اور گاڑیوں کے لئے متحدہ عرب امارات- چھن ژو- لان ژو جیسے روٹس باقاعدگی سے چلائے جا رہے ہیں جو ایک موثر بین الاقوامی لاجسٹکس نیٹ ورک تشکیل دیتے ہیں۔

یہ راہداری شمال میں شاہراہ ریشم اقتصادی پٹی کو جنوب میں 21 ویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم سے ملاتی ہے، یانگسی دریا کے اقتصادی پٹی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتی ہے اور چین کی متوازن علاقائی ترقی کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 2017 میں اس کے آزمائشی آغاز کے بعد سے یہ چین کے اندرونی علاقوں کو آسیان ممالک اور دنیا کے دیگر خطوں کی منڈیوں سے جوڑنے والی ایک سٹریٹجک راہداری بن چکی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!