جمعرات, جنوری 8, 2026
ہومپاکستانپاکستانی طلبہ چین کے دیہی علاقوں میں انگریزی تعلیم اور عالمی...

پاکستانی طلبہ چین کے دیہی علاقوں میں انگریزی تعلیم اور عالمی نقطہ نظر لے آئے

تیانجن (شِنہوا) چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن واپس آنے کے بعد بھی تیانجن یونیورسٹی کے 2 پاکستانی طلبہ شمال مغربی صوبہ گانسو کی دور افتادہ کاؤنٹی تان چھانگ کے نان یانگ مڈل سکول میں گزارے ہوئے اپنے ایک ہفتے طویل انگریزی تدریسی تجربے کو یاد کرتے ہیں۔ ان کا یہ مختصر قیام دیہی کمیونٹی کے لئے ایک پائیدار محبت چھوڑ گیا۔

یہ رضاکارانہ پروگرام تیانجن یونیورسٹی کے اس طویل المدتی منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد دیہی تعلیم کی معاونت اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا ہے تاکہ مقامی انگریزی تدریس کو بہتر بنایا جا سکے اور چینی و غیر ملکی نوجوانوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جاسکے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے رضاکار عماد عالم اور ابراہیم نایاب دیہی سکول کے لئے صرف لسانی مہارت ہی نہیں بلکہ تعلیم کے ذریعے ثقافتوں کو جوڑنے کا جذبہ بھی لے کر آئے۔

الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم عماد عالم نے کہا کہ بہت سے طلبہ انگریزی سمجھتے تھے لیکن بولنے میں جھجک محسوس کرتے تھے۔ ہم نے کھیلوں، مقابلوں اور باہمی سرگرمیوں کے ذریعے ان کا اعتماد بڑھانے پر توجہ دی۔

ان رضاکاروں نے جماعت ہفتم سے نہم تک کے 200 سے زائد طلبہ کو پڑھایا اور کہانی سنانے، کردار ادا کرنے اور مائنڈ میپنگ جیسی طلبہ پر مرکوز تدریسی تکنیکیں استعمال کیں۔

عماد عالم نے طلبہ کی رہنمائی کے لئے ذہنی خاکوں کا استعمال کیا تاکہ وہ انگریزی میں اپنے علاقے کے کھانوں، مشہور مقامات اور رسم و رواج کا تعارف کروا سکیں۔ عالم نے بتایا کہ جب سبق ان کی اپنی زندگیوں سے جڑ گیا تو ان کی دلچسپی اور سیکھنے کے جذبے میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہیں انگریزی میں اپنے آبائی شہر کی تعریف کرنے پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔

نان یانگ مڈل سکول کی طالبہ یوآن شن نے بتایا کہ انہیں اس تجربے سے بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان عالمی اساتذہ کے ساتھ اپنے رابطے کے نمبروں اور سوشل میڈیا آئی ڈیز کا تبادلہ کیا ہے۔ میں اپنی انگریزی بہتر بنانے کے لئے ان سے سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھوں گی۔

پاکستان میں سیکنڈری سکول کی سابقہ پرنسپل رہنے والی ابراہیم نایاب کے لئے یہ تجربہ چین میں دیہی تعلیم کے حوالے سے ایک نیا نقطہ نظر فراہم کرنے والا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ یہاں کے طلبہ کس طرح انگریزی سیکھتے ہیں اور مقامی اساتذہ کس انداز میں پڑھاتے ہیں۔ دیہی تعلیم کے لئے چین کا عزم قابل ستائش ہے۔

نایاب سکول کے منظم انتظام اور سہولیات سے خاص طور پر متاثر ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ جسمانی تعلیم کا نصاب متنوع ہے اور ہر چیز بہت منظم ہے۔ یہ سیکھنے کے قابل ہے۔

طلبہ کو بولنے کی ترغیب دینے کے لئے رضاکاروں نے ایک انگریزی تقریری مقابلہ بھی منعقد کیا جس میں ہر کلاس سے 2 نمائندے منتخب کئے گئے۔

تیانجن یونیورسٹی کے پاکستانی طلبہ عماد عالم (درمیان میں) اور ابراہیم نایاب (بائیں جانب پہلی) تدریسی دورے پر نان یانگ مڈل سکول میں موجود ہیں۔(شِنہوا)

عماد عالم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہمیں اتنی پرجوش شرکت کی توقع نہیں تھی۔ میں نے دیہی چینی بچوں میں اپنے اظہار اور دنیا سے بات کرنے کی شدید خواہش دیکھی۔ ایک کھلا دیہی معاشرہ عالمی سطح سے جڑنے کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے۔

نہم جماعت کے ایک طالب علم، جس کا خاندانی نام چھن ہے، نے مقابلے کے بعد زیادہ اعتماد محسوس کیا۔ چھن نے کہا کہ مجھے احساس ہوا کہ انگریزی بھی چینی کی طرح خوبصورت ہو سکتی ہے۔ زبان دنیا کو جوڑنے والا ایک پل ہے۔ ہمیں چینی زبان میں مہارت حاصل کرنی چاہیے اور ساتھ ہی انگریزی بھی اچھی طرح سیکھنی چاہیے۔

عماد عالم کو سب سے زیادہ بچوں کا تجسس اور سیکھنے کا جذبہ متاثر کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف علم کی منتقلی نہیں تھی بلکہ ذہنوں کو جگانے اور مستقبل تعمیر کرنے کی کوشش تھی۔ میں نے طلبہ سے کہا کہ ایک استاد اور دوست کے طور پر میں ہمیشہ ان کی مدد کے لئے کسی بھی وقت اور کہیں بھی موجود ہوں۔

یہ پروگرام تیانجن یونیورسٹی اور تان چھانگ کاؤنٹی کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کا حصہ ہے۔ 2013 سے اب تک یونیورسٹی نے خوابوں کی کلاس رومز اور اے آئی تدریسی لیبز کی تعمیر جیسے منصوبوں کے ذریعے کاؤنٹی کی مدد کی ہے اور ‘آن لائن ٹیوشن + آف لائن تدریس اور اساتذہ کی تربیت + نصاب کی شراکت جیسے پائیدار ماڈلز کو فروغ دیا ہے تاکہ دیہی شباب نو کو تقویت ملے۔

تیانجن یونیورسٹی کے سکول آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے پارٹی سیکرٹری اور پروگرام کے منتظم جن شوآن نے کہا کہ 2024 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ ہم نے تان چھانگ کاؤنٹی میں دیہی تعلیم کی معاونت کے لئے بین الاقوامی طلبہ کو منظم کیا ہے۔

جن نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی طلبہ چین کو اس کی اصل اور متنوع شکل میں دیکھیں۔ اس سے دیہی تعلیم میں بین الاقوامی توانائی شامل ہوتی ہے اور عالمی نوجوانوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

نان یانگ مڈل سکول کے پرنسپل وو شیان گان کا خیال ہے کہ اس سرگرمی نے طلبہ کے لئے دنیا کی ایک کھڑکی کھول دی، انگریزی میں ان کی دلچسپی بڑھائی اور سکول میں قیمتی عالمی نقطہ نظر لایا۔ وہ امید کرتے ہیں کہ مزید بین الاقوامی نوجوان دیہی علاقوں میں آ کر تعلیم میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

یہ تدریسی پروگرام محض تعلیمی مدد تک محدود نہیں رہا بلکہ ثقافتوں کے درمیان باہم سیکھنے کی ایک جیتی جاگتی مثال بن گیا۔

نایاب نے کہا کہ میں سمجھتی تھی کہ میں طلبہ کے لئے ایک کھڑکی کھول رہی ہوں لیکن درحقیقت انہوں نے میرے لے بھی ایک کھڑکی کھول دی۔ میں نے چین کی دیہی مضبوطی، محنت اور ثقافتی دولت کو قریب سے دیکھا۔

جیسے جیسے چین دیہی ترقی اور تعلیمی مساوات کو آگے بڑھا رہا ہے، بین الاقوامی تعاون کے مزید منصوبے دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لئے مواقع پیدا کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں اور دنیا سے جڑ سکیں۔

بالکل اسی طرح جیسے 3 بین الاقوامی طلبہ نے بلیک بورڈ پر لکھا کہ دنیا بہت بڑی ہےاور تم اسے دیکھ سکتے ہو۔

نایاب نے جذباتی انداز میں کہا کہ یہ بچے مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر یا فنکار بن سکتے ہیں۔ ہمارا ساتھ مختصر تھا اور ہماری مدد محدود لیکن اگر ہم ان کے دلوں میں امید کا ایک بیج بو سکے ہیں تو پھر ہمارا یہ سفر واقعی کامیاب رہا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!