جمعہ, جنوری 9, 2026
ہومتازہ ترینبیجنگ نے 2سال کے اندر 10 کھرب یوآن کی اے آئی صنعت...

بیجنگ نے 2سال کے اندر 10 کھرب یوآن کی اے آئی صنعت کا ہدف مقرر کرلیا

بیجنگ (شِنہوا) چین کا دارالحکومت عالمی اے آئی اختراعی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے بیجنگ نے ایک نئے ایکشن پلان کے ذریعے اپنی بنیادی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کو 2 سال کے اندر 10 کھرب یوآن (تقریباً 142.5 ارب امریکی ڈالر) سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت حکام اے آئی صنعت کے مختلف شعبوں کے لئے 9 بڑے اقدامات متعارف کروائیں گے جس میں ٹیکنالوجی کی جدت پر خاص زور دیا گیا ہے۔

منصوبے میں ہم آہنگ تحقیقی کوششوں کے ذریعے تکنیکی کامیابیوں کو ترجیح دینا، اعلیٰ معیار کے ڈیٹا کی فراہمی کو بڑھانا اور مختلف شعبوں میں ایپلیکیشنز کو وسعت دینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ بہترین ہنر مندوں کو متوجہ کرنے، طویل مدتی سرمایہ کاری متحرک کرنے اور اوپن سورس ایکو سسٹمز کی حمایت کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

بیجنگ میونسپل کمیشن آف ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کی ڈائریکٹر یانگ شیولنگ نے کہا کہ دیگر اہداف میں ایک لاکھ چپس سے زیادہ صلاحیت والے مقامی طور پر تیار شدہ اے آئی کمپیوٹنگ کلسٹر کی تعمیر، 10 سے زائد نئی اے آئی کمپنیوں کا اندراج اور اس شعبے میں 20 سے زائد یونیکورن کمپنیوں کی نشونما شامل ہیں۔

یانگ نے مزید کہا کہ یہ اقدامات بیجنگ کو عالمی سطح پر مسابقتی اے آئی اختراعی مرکز میں تبدیل کرنے کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔

چائنہ اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے مطابق ملک کے اے آئی شعبے نے مضبوط ترقی دیکھی ہے اور ستمبر 2025 تک اس نوعیت کی کمپنیوں کی تعداد 5 ہزار 300 سے تجاوز کر چکی تھی جو عالمی مجموعے کا 15 فیصد بنتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!