جمعرات, جنوری 8, 2026
ہومپاکستانافغانستان، بھارت ملکر حملہ کریں، شوق پورا کرینگے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف...

افغانستان، بھارت ملکر حملہ کریں، شوق پورا کرینگے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دہشت گردی کیخلاف جنگ قوم کے ہر فردکی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک میں 5 فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، گزشتہ سال دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے، وجہ دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول کی فراہمی ہے، افغانستان خطے میں دہشت گردوں کی آماجگاہ، اثر پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک پر پڑ رہا ہے، بھارت دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال، اسلحہ و مالی وسائل فراہم کررہا ہے، دنیا نے دیکھ لیا معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا، افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کریں، شوق پورا کریں گے۔

منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد گزشتہ سال میں دہشت گردی کیخلاف اقدامات کا جامع احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کیخلاف یہ جنگ صرف فوج کی نہیں، یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے، اگر ہم دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی جنگ 2 دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، اس جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے،گزشتہ سال دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کیلئے ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال فوج، پولیس، ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 75 ہزار175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے جن میں سے 14ہزار 658 آپریشن خیبرپختونخوا، 58ہزار 778 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بلوچستان جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 1ہزار 739آپریشن کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 2597 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا جبکہ دہشت گردی کی جنگ میں ہماری 1235شہادتیں ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال 27 خودکش واقعات ہوئے جن میں سے خیبرپختونخوا میں 16، بلوچستان 10 اور ایک اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کریمنل ٹیرر گٹھ جوڑ کی موجودگی کے باعث 2021 سے 2025 تک دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشت گردی کیلئے پرعزم ہے اس کیلئے اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ،دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریبا اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کیلئے سنجیدہ خطرہ ہے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں، سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں، یہ معاملہ علاقائی امن کیلئے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کئے جائیں لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشت گردی کے خلاف واضح موقف دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں 5فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشت گردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ وار اکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اور سرپرستی سے افغانستان سے دہشت گردی ہورہی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشت گردی کو خوب ہوا دی، اکتوبر 2025میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ حق کسی نے نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں بھی افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال دہشتگردی کے 10بڑے واقعات میںبنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سول بس اور خضدار میں سکول بس، فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز، ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور میں دوبارہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، تمام بڑے دہشت گردی واقعات میں افغانی ملوث پائے گئے، حملہ کرنے والا ہر افغانی مارا جاتا ہے، بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی کی صورت میں افغانستان کو ایک نیا اوتار مل گیا ہے، کہا جاتا ہے 2026 میں افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کرینگے، افغانستان اور بھارت آجائیں ان کا شوق پورا کریں گے، ہندوستانی میڈیا پر بیٹھا شخص بھی ساتھ ہی آئے چھپ کر نہ بیٹھے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!