وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ 5 سالوں میں زرعی برآمدات بڑھانے بارے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی اصلاحات، کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا اولین ترجیح ہے، وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اصلاحات، صوبائی حکومتوں کیساتھ مل کر زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
منگل کو وزیراعظم کی زیر صدارت ملکی زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے بارے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا۔
وزیراعظم نے آئندہ 5 سالوں میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور بیماری کی روک تھام کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ سے برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کیلئے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلبا و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کیلئے بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کیلئے تحقیق پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماہی گیری اور پھلوں و ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کیلئے پالیسی اقدامات تشکیل دیکر پیش کئے جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔


