پانی کے ذریعے پھیلنے والی طفیلی بیماری سکِسٹوسومیاسس طویل عرصے سے تنزانیہ کے جزیرہ زنجبار اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی تھی۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے چین کی معاونت سے سکِسٹوسومیاسس پر قابو پانے کا ایک منصوبہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور زنجبار کی حکومت کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے والے علاقوں میں ’چانی‘ بھی شامل ہے۔ صاف پانی کی فراہمی نے یہاں کی روزمرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے اور سکِسٹوسومیاسس کے انفیکشن کی شرح میں کمی لانے میں بڑی مدد ملی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (سواحلی): حاجی مکامے عمری، چانی کا رہائشی، زنجبار، تنزانیہ
"اس منصوبے سے پہلے سکِسٹوسومیاسس بہت عام تھا کیونکہ ہمیں تالابوں اور دریاؤں کا پانی استعمال کرنا پڑتا تھا۔ جب سے یہ منصوبہ شروع ہوا ہے بیماری کی شرح میں کمی آئی ہے۔ اب ہمیں صاف اور قابلِ اعتماد پانی کی سہولت میسر ہے۔ ہم بے حد شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ چینی ماہرین باقاعدگی سے یہاں آ کر صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں گے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): راشد قاسم جمعہ، پراجیکٹ کوآرڈینیٹر، وزارت پانی، توانائی اور معدنیات
"میں اس منصوبے کو چین کی جانب سے ایک بڑی مدد سمجھتا ہوں۔ اس سے پہلے ان دیہات کی حالت بہت خراب تھی اور لوگ مشکلات کا شکار تھے۔ لیکن اب وہاں صاف پانی دستیاب ہے۔ ہم اس مدد پر بے حد شکر گزار ہیں۔”
یہ نمایاں تبدیلیاں اُس دس سالہ تعاون کا نتیجہ ہیں جس کا باقاعدہ آغاز سال 2016 میں اس منصوبے کی صورت میں ہوا تھا۔
منصوبے کا پہلا مرحلہ زنجبار کے جزیرۂ پیمبا میں سال 2018 سے سال 2020 کے دوران نافذ کیا گیا۔
اس مرحلے کے نتیجے میں نمونہ جاتی علاقوں میں سکِسٹوسومیاسس کے انفیکشن کی شرح 8.92 فیصد سے کم ہو کر0.64 فیصد رہ گئی۔
منصوبے کا دوسرا مرحلہ سال 2023 میں شروع ہوااور اس کا دائرہ کار زنجبار کے جزیرۂ اُنُگوجا تک بڑھا دیا گیا۔
اڑھائی برس بعد کے بعد تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق انفیکشن کی شرح صرف 0.15 فیصد رہ گئی جو ڈبلیو ایچ او کی ایک فیصد کی حد سے کافی کم ہے۔
دوسرے مرحلے میں محفوظ پانی کی فراہمی کے نظام کی تعمیر ایک اہم جدت رہی ہے۔
اب پانچ منصوبے چل رہے ہیں جن میں چار پیمبا جزیرے میں اور ایک اُنُگوجا جزیرے میں ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 30 ہزار افراد کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): وانگ وی،سربراہ، چائنہ ایڈڈ زنجبار سکِسٹوسومیاسس کنٹرول پروجیکٹ ٹیم
"یہ منصوبہ عوام کی روزی روٹی کے لئے ہے۔ اس نے مقامی رہائشیوں کے روزمرہ اور مفید استعمال کے لئے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے سکِسٹوسومیاسس کے انفیکشن کی شرح کو بھی نمایاں طور پر کم کیا ہے۔”
منصوبے میں انفراسٹرکچر کے علاوہ پائیداری پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔
یہ اقدامات کمیونٹی ہسپتال کے عملے اور رضا کاروں کی تربیت، صحت کی تعلیم کے مراکز اور مظاہراتی اسکول قائم کرنے اور نگرانی کے نظام کو زنجبار کے صحت کے معلوماتی نظام میں شامل کرنے پر مشتمل ہیں۔
اگلا سنگِ میل جنوری 2026 میں مقرر ہے جب مکمل طور پر ڈیجیٹل سکِسٹوسومیاسس نگرانی اور ردعمل کا نظام فعال ہو جائے گا۔
کمیونٹی سطح پر کیسز کا پتہ چلتے ہی رپورٹس فوراً کمپیوٹر یا موبائل فون کے ذریعے بھیجی جا سکیں گی جس سے فوری کارروائی اور وباؤں کی روک تھام ممکن ہوگی۔
زنجبار، تنزانیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
زنجبار کا دیہی علاقہ سکِسٹوسومیاسس کی بیماری سے شدید متاثر تھا
مقامی لوگ تالابوں اور دریاؤں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور تھے
چین کی مدد سے ڈبلیو ایچ او اور زنجبار حکومت نے منصوبہ شروع کیا
منصوبے سے ’چانی‘ میں صاف اور صحت بخش پانی کی فراہمی ممکن ہوئی
بیماری کی شرح میں نمایاں کمی سے مقامی روزمرہ زندگی بہتر ہوئی
پیمبا جزیرے میں انفیکشن 8.92 فیصد سے 0.64 فیصد تک کم ہوا
دوسرے مرحلے میں اُنُگوجا جزیرے میں انفیکشن صرف 0.15 فیصد رہ گیا
پراجیکٹ میں پانی کی فراہمی، صحت کی تعلیم اور کمیونٹی مراکز شامل ہیں
مقامی طبی عملے کی تربیت اور نگرانی کے نظام کو ڈیجیٹل کیا گیا
روان ماہ سے مکمل ڈیجیٹل سکِسٹوسومیاسس نگرانی اور فوری کارروائی ممکن ہو گی


