وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے 7 شہروں میں پنجاب ڈویلپمنٹ منصوبے اپریل تک مکمل، اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کی دوسری قسط فوری جاری، صوبے میں پی ایچ اے کے قیام کیلئے قابل عمل منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو سڑکوں پر کھدائی کی وجہ سے ہونے والی تکلیف پر معذرت چاہتے ہیں۔
منگل کو وزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام، لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام، مثالی گائوں، پی ایچ اے، صاف پانی اور دیہی روڈ منصوبوں پر پیشرفت کی جانچ پڑتال کی گئی۔
وزیراعلی کو بتایا گیا کہ روڈ بحالی کے 1529 منصوبوں کے تحت 4031 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت ہوگی، مثالی گائوں پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے 224 دیہات میں کام شروع ہو چکا ہے جبکہ 469 دیہات میں واٹر سپلائی، چلڈرن پارکس اور سٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی، منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے لائیو ڈیش بورڈ قائم کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
وزیراعلی کو بتایا گیا کہ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کی دوسری قسط فوری جاری کی جا رہی ہے، روزانہ 700 مکانات تعمیر ہو رہے ہیں، 52 شہروں میں 204 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر و مرمت کے منصوبے 22 فروری تک شروع ہوں گے، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، فلٹر پلانٹس کی مرمت اور واٹر فلٹریشن پلانٹس 30 جون تک مکمل کیے جائیں گے۔
وزیراعلی نے سڑکوں میں کھدائی کے باعث عوام کو ہونے والی تکلیف پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ فلٹر پلانٹس سے متعلق عوامی شکایات موصول ہوئی ہیں جن کے فوری ازالے کیلئے متاثرہ علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس ترجیحی بنیادوں پر نصب کئے جائیں۔
انہوں نے ہدایت دی کہ واٹر بوٹلنگ پلانٹس اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر و بحالی 30 جون تک مکمل کی جائے جبکہ ڈیرہ غازی خان، خوشاب، رحیم یار خان اور بہاولپور میں عوام کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی فراہم کیا جائے۔
وزیراعلی نے سیوریج لائن سڑکوں کی بجائے گرین بیلٹ میں بچھانے کا حکم دیا گیا جس کے مین ہول سڑک کنارے ہوں گے، وزیراعلی نے ڈرینج اور سیوریج سسٹم کی پائیداری کیلئے 100 سال تک کارآمد سیوریج پائپ نصب کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلی نے لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے پہلے فیز کی تکمیل اور دوسرے فیز کو 30 اپریل تک مکمل کرنے کی ہدایت دی، وزیراعلی نے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو سات شہروں میں اپریل تک مکمل کرنے، اپنی چھت، اپنا گھر پروجیکٹ کی دوسری قسط فوری جاری کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلی نے پی ایچ اے کی مالی خودمختاری اور اثاثوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریسورس جنریشن پلان بنانے، لاہور کینال کی بھل صفائی جلد مکمل اور بارش کے بعد پانی کے نکاس کے اہداف مقرر کرنے کا حکم دیا ۔


