ساؤنڈ بائٹ (انگرزیزی): محمد فردوس بن عبدالرحمان، صدر، برونائی چائنہ فرینڈشپ ایسوسی ایشن ( بی ایس ایف اے)
"اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 2758 بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ نہ صرف چین اور برونائی کے لئے اہم ہے بلکہ تمام رکن ممالک کے لئے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ میرے کہنا یہ ہے کہ تمام رکن ممالک کو اس قرارداد کی پالیسیوں کی پیروی کرنا ہوگی۔ میرا یقین ہے کہ اس اصول کو سختی سے اپنایا جانا چاہئے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ برونائی، اس کی حکومت اور عوام ‘‘ ایک چین پالیسی‘‘ پر بہت مضبوطی سے قائم ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس دنیا میں صرف ایک ہی چین ہے۔”
25 اکتوبر 1971 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے 26ویں اجلاس کے دوران قرارداد 2758 بھاری اکثریت سے منظور کی تھی۔
قرارداد میں زور دے کر کہا گیا کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان چین کا ایک ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت پورے چین کی واحد قانونی حکومت ہے جو سارے چین کی نمائندگی کر رہی ہے۔ قرارداد کے مطابق "دو چین” یا "ایک چین، ایک تائیوان” جیسے تصورات کا کوئی وجود نہیں۔
بندر سری بگاوان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
برونائی کے محقق نے ’’ایک چین پالیسی‘‘ کے احترام پر زور دیا ہے
محمد فردوس بن عبدالرحمان نے قرارداد 2758 کی اہمیت بیان کی
برونائی کی حکومت اور عوام ’’ایک چین پالیسی‘‘ کے پابند ہیں
دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان اس کا حصہ ہے
اقوام متحدہ نے سال 1971 میں قرارداد 2758 منظور کی تھی
قرارداد کے مطابق عوامی جمہوریہ چین پورے چین کی نمائندہ ہے
"دو چین” یا "ایک چین، ایک تائیوان” کے تصورات میں کوئی حقیقت نہیں
عالمی برادری کو ’’ایک چین پالیسی‘‘ کے اصول کی پابندی کرنا ہو گی
برونائی اور چین کے تعلقات میں یہ اصول اہمیت کا حامل ہے
’’ایک چین پالیسی‘‘ کے اصول کا احترام برونائی اور چین تعلقات میں اہمیت رکھتا ہے


