سپریم کورٹ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے معاملے پر ٹربیونل کو 90 روز میں فیصلے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی سطح پر ہو سکتا ہے، چیئرمین مسابقتی کمیشن کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور دوبارہ فیصلہ کن ووٹ کا حق دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔
پیر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔
مسابقتی کمیشن کی وکیل عصمہ حامد نے عدالت سے استدعاء کی کہ آرڈر میں کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کئے جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کردیتے ہیں۔
جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مسابقتی کمیشن میں 4 ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کو سنا جس کے نتیجے میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کئے جبکہ دیگر 2 ممبران نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا، چونکہ فیصلہ دو، دو ممبران سے برابر تھا، اس لئے مسابقتی کمیشن ایکٹ کی شق 24(5)کے تحت چیئرمین نے فیصلہ کن ووٹ استعمال کرتے ہوئے جرمانے برقرار رکھے، شوگر ملز نے فیصلے کیخلاف متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا جس نے کیس دوبارہ سن کر 90 روز میں فیصلے کا حکم دیا، فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چیئرمین مسابقتی کمیشن کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور دوبارہ فیصلہ کن ووٹ کا حق دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے، عدالت عظمی نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی سطح پر ہو سکتا ہے۔
عدالت نے ٹریبونل کو 90روز میں کیس سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


