بیجنگ (شِنہوا) چین کی کم بلندی والے آلات کی صنعت مسلسل فروغ پا رہی ہے اور اس صنعت کی پیداواری مالیت نے 14 ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران سالانہ اوسطاً 10 فیصد سے زیادہ شرح سے ترقی برقرار رکھی۔
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی آئی ٹی) کے مطابق 30 دسمبر 2025 تک اس شعبے میں ایک ہزار 81 اداروں نے رجسٹریشن کی، 3 ہزار 623 اقسام کی مصنوعات پیش کی گئیں اور 52 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ یونٹس رجسٹرڈ کئے گئے۔
ایم آئی آئی ٹی کے اہلکاروں نے کہا کہ 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران چین کم بلندی والے آلات کی صنعت میں ٹیکنالوجی کی جدت کو مزید تیز کرے گا، اس کے تحفظ کی بنیاد کو مضبوط کرے گا، صنعتی معیار کے نظام کو بہتر بنائے گا اور مقامی حالات کے مطابق کم بلندی والے آلات کے جدت پر مبنی استعمال کو فروغ دے گا۔
ایم آئی آئی ٹی نے دسمبر میں ایک کانفرنس میں یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ نئی صنعتوں کو ترقی دے گا، جن میں کم بلندی والی معیشت، مربوط سرکٹس، نئی ڈسپلے ٹیکنالوجیز، نئے مواد، خلائی صنعت اور بائیومیڈیسن شامل ہیں۔
چین کی شہری ہوابازی انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ کم بلندی والی معیشت کا مارکیٹ حجم 2035 تک 35 کھرب یوآن (تقریباً 498 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر جائے گا۔


