وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ رات اچانک یتیم اور بے سہارا بچوں کیلئے قائم زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے زمونگ کور سے 11 بچوں کے نکالے جانے کے معاملے پر فوری انکوائری کا حکم دیدیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے دورے کے دوران زمونگ کور میں مقیم بچوں اور انتظامیہ سے ملاقات کی انکے مسائل سنے اور موقع پر احکامات جاری کئے۔
اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے، زمونگ کور انسٹیٹیوٹ عمران خان کے احساس وژن کے تحت قائم ہیں اور انہیں اصل روح کے مطابق چلایا جائیگا، انسٹیٹیوٹ کے تمام معاملات کی بذات خود نگرانی کرونگا۔
انہوں نے زمونگ کور میں مقیم بچوں کو فراہم کی جانیوالی ہائیجین کٹس کی تقسیم سے متعلق بھی انکوائری کی ہدایت کر دی اورماڈل انسٹیٹیوٹ کے کلاس رومز میں کیمروں کی تنصیب اور درکار اساتذہ کی فوری فراہمی کا بھی حکم دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بچوں کیلئے کمپلینٹ سیل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، زمونگ کور کے نجی کالجز میں زیر تعلیم بچوں کی فیس حکومت ادا کریگی، انہوں نے ایٹا میرٹ سکالرشپس میں زمونگ کور کے بچوں کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کرنے کی بھی ہدایت کی، زمونگ کور کا اکائونٹس سسٹم اور بچوں کو وظیفے کی ادائیگی کے نظام کو ڈیجیٹل کرنے کا حکم بھی دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کالجز و سپورٹس اکیڈمیز جانیوالے بچوں کیلئے ٹرانسپورٹ سروس کی فراہمی کا بھی حکم دیا ۔انہوں نے زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، کھانے کے معیار کا جائزہ لیا، انہوں نے گرلز کیمپس کا بھی دورہ کیا اور گزشتہ دورہ کے موقع پر جاری کئے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا ۔


