جمعہ, جنوری 9, 2026
ہومتازہ ترینوینزویلا پر حملے سے واضح ہو گیا، بین الاقوامی قانون کو ...

وینزویلا پر حملے سے واضح ہو گیا، بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرنے والا کون ہے

بیجنگ(شِنہوا) امریکی انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا میں امریکی فوجی دراندازی اور صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کا اعلان ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ واشنگٹن اپنی سرحدوں سے باہر نتائج مسلط کرنے کے لئے یکطرفہ طاقت پر انحصار کرتا ہے۔

یہ جارحیت بین الاقوامی قوانین کے محافظ کے طور پر خود کو پیش کرنے سے متعلق امریکہ کی دہائیوں پرانی بیان بازی کو بھی کھوکھلا ثابت کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو نظرانداز کرتے ہوئے واشنگٹن نے ایک بار پھر براہ راست بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے برخلاف اقدام کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 2(4) ، جو بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو صریحاً ممنوع قرار دیتا ہے۔ لہٰذا ایک خودمختار ملک کے رہنما کے خلاف کی گئی کارروائی نے دنیا کے سامنے بلا ابہام یہ واضح کر دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حقیقی خلاف ورزی کرنے والا کون ہے۔

تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ عراق اور لیبیا سے لے کر پاناما اور گریناڈا تک امریکہ نے بارہا مشکوک جواز کے تحت طاقت استعمال کی یا اس کی دھمکی دی، جس کے نتیجے میں اکثر طویل مدتی غیر مستحکم حالات پیدا ہوئے۔ طویل عرصے سے پابندیوں اور سیاسی دباؤ کا شکار وینزویلا اب اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے اور ایک بار پھر سفارتکاری کو پس پشت ڈال کر فوجی دباؤ کو ترجیح دی گئی ہے۔

یہ جارحیت لاطینی امریکہ میں رونما ہوئی، جو اسے خاص طور پر قابل مذمت بناتی ہے۔ اس خطے نے امریکہ کی مداخلت کی طویل تاریخ سہہ رکھی ہے اور اس کے پیچھے کارفرما منطق کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

جیسا کہ سی این این نے ایک تجزیے میں نشاندہی کی کہ اس کارروائی کے پیچھے واشنگٹن کے اپنے قریبی پڑوسی ممالک پر زیادہ کنٹرول کے وسیع تر عزائم چھپے ہیں، جسے انہوں نے ایک جدید مونرو ڈاکٹرائن قرار دیا ہے۔

اگرچہ اس ڈاکٹرائن کا اب کھلے عام اعلان نہیں کیا جاتا، لیکن اس کا جوہر آج بھی برقرار ہے۔ مغربی نصف کرہ کو اب بھی واشنگٹن کے مخصوص دائرہ اثر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

واشنگٹن نے اپنے بار بار کئے جانے والے اقدامات کے ذریعے خود ہی اس بین الاقوامی نظام کے لئے سب سے سنجیدہ خطرات میں سے ایک ہونے کا ثبوت دے دیا ہے، جسے وہ بچانے کا دعویٰ کرتا آیا ہے۔

دنیا کے باقی ممالک کے لئے خودمختاری اور کثیرالجہتی نظام کے دفاع میں بالکل واضح اور کھل کر آواز اٹھانا اب اختیاری نہیں رہا بلکہ یہ ضروری ہے تاکہ دوبارہ ایک ایسی صورت حال سے بچا جا سکے جہاں قانون کے بجائے طاقت قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!