واشنگٹن(شِنہوا)ایک سابق امریکی کیریئر سفارت کار چاس ڈبلیو فری مین جونیئر نے کہا ہے کہ چین کے متعلق امریکی پالیسیوں میں مہارت کی ضرورت ہے اور واشنگٹن کی طرف سے دوطرفہ تعلقات کے انتظام کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جانی چاہئیں۔
امریکہ کے سابق نائب سیکرٹری دفاع نے یہ بات براؤن یونیورسٹی کے واٹسن سکول برائے بین الاقوامی اور عوامی امور میں ’’چائنہ چیٹ‘‘ کے عنوان سے ہونے والے مباحثوں سے خطاب کے دوران کہی۔
اپنے خطاب میں فری مین، جو 1989 سے 1992 تک سعودی عرب میں امریکہ کے سفیر بھی رہے، نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ امریکہ دنیا میں چین کے معاشی اور سیاسی عروج کی درست تفہیم حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اسی طرح امریکہ اپنے زوال کو بھی نہیں سمجھ سکا۔
انہوں نے کہا کہ چین اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کو فتح یا محدود کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ زمین پر قبضے یا بیرون ملک نوآبادیات کی تلاش میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی توسیع پسندی کو فطری حق سمجھنے کا کوئی نظریہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے چین کے عروج کو اپنی قومی سلامتی کے خطرے کے طور پر دیکھنے کا انتخاب کیا ہے، بجائے اس کے کہ اس چیز کو ایک عالمی معاشی اور تکنیکی ترقی کے موقع کے طور پر لیا جائےاور اسی لئے اس نے چین کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کی ہے۔
انہوں نے امریکی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ دنیا کی معیشت اب غیر مستحکم، سکڑتی ہوئی اور دن بہ دن ناقابل رسائی ہوتی ہوئی امریکی منڈی کے گرد نہیں گھومتی اور امریکہ اب سائنس اور ٹیکنالوجی کے زیادہ تر شعبوں میں قیادت نہیں کر رہا۔
فری مین کی رائے میں امریکہ اب اس "عالمی نظام سے دستبرداری” کے عمل میں کافی آگے بڑھ چکا ہے جس کا وہ کبھی حامی تھا اور جس کے قیام میں مدد کی تھی اور وہ عالمی فیصلہ سازی، سپلائی چینز، تجارت، ویلیو ایڈیڈ سرمایہ کاری اور ایک ایسی عالمی معیشت، جو اب مغرب کے زیر تسلط نہیں رہی، میں بتدریج ایک چھوٹا شریک بنتا جا رہا ہے۔


