عرب و دیگر مسلم ممالک نے غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امدادی اداروں پر اسرائیلی پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ شدید موسمی حالات اور انسانی امداد تک رسائی پر پابندیاں شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنیں گی۔
سیلاب سے متاثرہ کیمپ، منہدم ڈھانچے، تباہ شدہ خیمے اور سرد موسم کی شدت نے شہری جانوں کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، بالخصوص بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی مسائل کے شکار افراد اس سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ غذائی قلت، ناکافی رہائش اور صاف پانی کی کمی کے امتزاج سے وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جس سے غزہ کے پہلے ہی کمزور صحت کے نظام پر مزید دبائو پڑ رہا ہے۔
مسلم ممالک نے مشکل حالات کے باوجود امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے پر اقوام متحدہ کے اداروں، بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے اور عالمی انسانی تنظیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انسانی امدادی تنظیموں کو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مستقل اور بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔
وزرائے خارجہ نے غزہ میں انسانی امداد کی فوری، مکمل و بلا رکاوٹ فراہمی، اہم بنیادی ڈھانچے، ہسپتالوں کی بحالی اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف کیلئے کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی حمایت کا اعادہ کیا ۔


