لندن(شِنہوا) برطانیہ کے 48 گروپ کے اعزازی صدر اسٹیفن پیری نے کہا ہے کہ عالمگیریت کے حوالے سے چین کا نقطہ نظر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے نیٹ ورکس بنانے اور منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینے پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جو عالمگیریت میں کسی بھی دوسرے عنصر سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں پیری نے کہا کہ عالمگیریت کوئی سوچا سمجھا سیاسی ایجاد نہیں بلکہ دنیا کی معیشتوں کی ترقی کی ایک فطری خصوصیت ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے کئی خطوں میں نوآبادیاتی دور کے نقل و حمل کے نظام اس طرح بنائے گئے تھے کہ وسائل اندرون ملک سے بندرگاہوں تک پہنچیں، نہ کہ مختلف ممالک آپس میں جڑ سکیں۔
پیری نے کہا کہ اس کے برعکس چین نے ان تینوں براعظموں کو ایسے ٹرانسپورٹ سسٹم تیار کرنے میں مدد دی ہے جس نے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کرنے کے قابل بنایا۔
پیری نے مزید کہا کہ چین کی بیرونی دنیا تک رسائی کی پالیسی کے آغاز میں چین کی زیادہ تر تجارت شمالی امریکہ اور یورپ تک محدود تھی تاہم اب یہ صورتحال بدل چکی ہے کیونکہ چین نے ایشیا، افریقہ اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ اپنی تجارت کو وسیع کر لیا ہے۔
اسٹیفن پیری کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے فوری طور پر چین اور یورپ کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع کھول دیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ریل اور سڑکوں کے راہداری منصوبوں نے ایسی تجارتی گزرگاہیں تخلیق کر دی ہیں جنہیں پہلے ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔


