کل اختتام پذیر ہونیوالے سال 2025 کے دوران پاکستانی ڈراموں میں رومانوی کہانیوں کی بہتات کت باوجود ہر آن سکرین جوڑی ناظرین کے دل جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی، جہاں کچھ جوڑوں نے سکرین پر جادو جگایا وہاں کئی جوڑوں کو کمزور کیمسٹری، غیر فطری تعلقات اور ناقص سکرپٹ کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
پورے سال کے دوران ڈراموں میں کہیں زبردستی کی شادیاں دکھائی گئیں تو کہیں جذباتی طور پر تھکا دینے والے رشتے، جس نے ناظرین کو جوڑے سے جوڑنے کے بجائے مزید دور کر دیا۔
شہریار منور اور آشنا شاہ نے ڈرامہ اے عشقِ جنون میں ایک ساتھ کام کیا، ڈرامہ نجی ٹی وی پر نشر ہوا اور کہانی کے باعث خاصی توجہ حاصل کی حتیٰ کہ بعض ناظرین نے اسے کورین ڈرامے سے بھی مشابہ قرار دیا تاہم مرکزی جوڑی کی کیمسٹری ناظرین کو متاثر نہ کر سکی، دونوں کے درمیان جذباتی ہم آہنگی کی کمی واضح نظر آئی جس کے باعث یہ جوڑی یادگار ثابت نہ ہو سکی۔
وہاج علی اور مایا علی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے بڑے نام ہیں، ڈرامہ جو بچھڑ گئے میں انکی جوڑی کو بیحد پسند کیا گیا تھا اور حقیقی زندگی میں بھی دونوں کی دوستی مشہور ہے تاہم سن میرے دل میں ان دونوں کو ایک ساتھ کاسٹ کرنا ناظرین کے مطابق ایک غلط فیصلہ ثابت ہوا، ڈرامہ میں انکی کیمسٹری بالکل کام نہ کر سکی اور شائقین اس جوڑی کو اس سکرین پر دیکھنے کے خواہشمند نظر نہیں آئے، ناظرین کے مطابق رومانوی تاثر صرف آخری قسط کے آخری چند منٹوں میں ہی محسوس ہو سکا۔
فیصل قریشی اور حنا آفریدی کی آن سکرین جوڑی نے بھی خاصی بحث کو جنم دیا، حنا آفریدی ڈرامہ انڈسٹری میں نسبتا نئی ہیں جبکہ فیصل قریشی ایک سینئر اور منجھے ہوئے اداکار ہیں، دونوں کے درمیان نمایاں عمر کے فرق نے ناظرین کو بے چین کر دیا تھا اگرچہ فیصل قریشی نے وضاحت کی کہ یہ فرق سکرپٹ کی ضرورت تھا مگر شائقین عمر کے فرق کو قبول نہ کر سکے جس کے باعث یہ جوڑی تنقید کا نشانہ بنی رہی۔
فیروز خان اور درفشاں سلیم نے کثیر تشہیر یافتہ ڈرامہ سانول یار پیا میں ایک ساتھ کام کیا بظاہر یہ جوڑی بری نہیں لگتی تاہم انکی کیمسٹری کو ایک اور کردار نے بری طرح متاثر کیا، ڈرامے میں احمد علی اکبر (سانول) کے کردار نے ایسا مضبوط تاثر چھوڑا کہ ناظرین پیا کو علی یار کے بجائے سانول کیساتھ دیکھنا چاہتے تھے، اس صورتحال نے فیروز اور درفشاں کی جوڑی کو مکمل طور پر پس منظر میں دھکیل دیا۔
ماورا حسین نے ڈرامہ اگر تم ساتھ ہو میں زاویار نعمان اعجاز اور اپنے حقیقی زندگی کے شریک حیات امیر گیلانی کیساتھ کردار ادا کیا، ڈرامہ مجموعی طور پر فلاپ ثابت ہوا اور ماورا اور زاویار کی کیمسٹری بھی ناظرین کو متاثر نہ کر سکی، زاویار کا کردار ایک شدت پسند اور جنونی عاشق کے طور پر پیش کیا جانا تھا مگر اداکاری اور سکرپٹ دونوں اس تاثر کو موثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہے۔


