جمعہ, جنوری 2, 2026
ہومانٹرنیشنلٹرمپ کا دوسرا دور، امریکہ بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے

ٹرمپ کا دوسرا دور، امریکہ بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جس سے بھارت کو کافی نقصان اٹھانا پڑا اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد مہری نے مودی حکومت کو نہ صرف سفارتی بلکہ شدید معاشی مشکلات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے خراب تعلقات کا براہِ راست اثر بھارت کے طاقتور ترین ارب پتیوں پر پڑ رہا ہے، مودی حکومت کی ہندوتوا پرور پالیسیوں اور دوغلے پن پر مبنی خارجہ حکمت عملی نے امریکی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، بھارتی ارب پتیوں نے لاکھوں ڈالر لابنگ فرموں پر خرچ کئے تاہم اسکے باوجود امریکا کیساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ کے مطابق معرکہ حق میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت اب امریکا کا ایسا اتحادی نہیں رہا جس پر خطے کے معاملات سنبھالنے کیلئے مکمل بھروسہ کیا جا سکے، ٹیرف تنازع کے تناظر میں مودی اور ٹرمپ کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر رہا جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، اس کے علاوہ حالات کو بھارت کیلئے مزید تلخ بناتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کیساتھ قربت میں اضافہ کیا ہے جس سے خطے میں بھارت کی سفارتی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھارت کو امریکا سے اختلاف کی صورت میں سخت معاشی اور قانونی دبائو کا سامنا کرنا پڑیگا، روسی تیل کی درآمد پر امریکی ناراضی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف اس بات کی واضح علامت ہیں کہ امریکا اب بھارت کی نام نہاد سٹریٹجک خودمختاری کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، مکیش امبانی جیسے بڑے کاروباری گروپ نے روسی تیل کی ریفائننگ کے ذریعے اربوں ڈالر منافع کمایا جو امریکا کیلئے تشویش کا باعث بنا اگرچہ امریکا بھارت کو چین کے مقابل ایک اہم فریق سمجھتا رہا ہے تاہم بھارت کا حالیہ رویہ امریکہ کیلئے قابلِ تشویش قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بھارت پاکستان کشیدگی اور خطے میں بڑھتے تصادم کے خدشات نے بھی امریکا کے بھارت سے متعلق شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے جس کے اثرات آنیوالے دنوں میں بھارت کی معیشت اور خارجہ پالیسی پر نمایاں طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!