اقوام متحدہ(شِنہوا)چین کے سفیر نے کہا ہے کہ چین اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنے کے اقدام سے ہارن آف افریقہ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس پر علاقائی تنظیموں اور خطے کے ممالک کی جانب سے فوری اور شدید تنقید اور مذمت سامنے آئی ہے۔
سن لی نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اس کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اقوام متحدہ کے منشور کا ایک بنیادی اصول اور بین الاقوامی قانون و بین الاقوامی تعلقات کی ایک ناقابل متزلزل بنیاد ہے، جس کی تمام رکن ریاستوں کو سختی سے پابندی کرنی چاہیے۔
سن لی نے کہا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کے علاقے کا لازمی حصہ ہے۔ چین صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مضبوط حمایت کرتا ہے اور اس کے علاقے کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے۔ چین ہمیشہ اس موقف پر قائم رہا ہے کہ صومالی لینڈ کا مسئلہ مکمل طور پر صومالیہ کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے سے باہر کے ممالک کو بلاجواز مداخلت بند کرنی چاہیے اور کسی بھی ملک کو اپنے جغرافیائی و سیاسی مفادات کے لئے دوسرے ممالک میں علیحدگی پسند قوتوں کی مدد یا حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔
چینی سفیر نے کہا کہ چین اسرائیل پر زور دیتا ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی سختی سے پابندی کرے، عالمی برادری کی آواز سنے، فوری طور پر اپنے غلط اقدام کی اصلاح کرے اور اس کے منفی اثرات کو جلد از جلد ختم کرے۔


