ماسکو/واشنگٹن(شِنہوا)روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکہ اور یوکرین کے درمیان حالیہ مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اور ٹیلی فون کال میں شریک ان کے اہم مشیروں نے مار- اے- لاگو میں یوکرینی وفد کے ساتھ ایک روز قبل ہونے والے مذاکرات کے اہم نتائج پر تفصیلی اور جامع بریفنگ دی۔
اوشاکوف کے مطابق ٹرمپ نے پوتن کو بتایا کہ انہوں نے زیلنسکی کو یوکرین کے لئے فوجی کارروائی عارضی روکنے کے بجائے جامع اور مضبوط معاہدوں پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ روس امن کے حصول کے لئے ممکنہ راستوں کی تلاش میں اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ قریبی اور نتیجہ خیز تعاون جاری رکھنے کے لئے پر عزم ہے۔
اوشاکوف نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ یوکرین کی جانب سے نووگوروڈ میں روسی صدارتی رہائش گاہ پر رات کے وقت ڈرون حملے کی خبر سن کر حیران اور شدید برہم ہوئے اور کہا کہ امریکی صدر یوکرین کی جانب سے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
اوشاکوف کے مطابق 2025 میں صدر پوتن نے امریکی نمائندوں کے ساتھ 17 رابطے کئے جن میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر 10 بار کی بات چیت بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کے معاملے پر صدر پوتن کے ساتھ ایک مثبت فون کال کی ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔


