نوم پنہ(شِنہوا)کمبوڈیا کے ایک دانشور نے کہا ہے کہ چین عالمی معیشت کا ایک اہم محرک اور عالمی امن، سلامتی اور مشترکہ ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔
کمبوڈیا کی بیلٹے انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر جوزف میتھیوز نے شِنہوا کو بتایا کہ 2025 کے آخر تک چین عالمی معیشت کا ایک بنیادی ذریعہ رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی شراکت کی نوعیت صرف دنیا کی فیکٹری ہونے سے بدل کر جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست توانائی میں رہنما بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے سب سے زیادہ متاثر کن ترقیاتی شعبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدت، ماحول دوست توانائی ، برقی گاڑیاں، لیتھیئم آئن بیٹریاں اور شمسی توانائی کے پینلز شامل ہیں۔
میتھیوز نے کہا کہ یہ شعبے صرف اپنی بڑے حجم کے لئے ہی متاثر کن نہیں بلکہ اپنی رفتار اور تکنیکی عالمی بالادستی کی وجہ سے بھی قابل تعریف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ چین اقوام متحدہ کے بیرون ملک امن مشنز میں بھی ایک ستون ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین اقوام متحدہ کے امن قیام امن بجٹ میں دوسرا سب سے بڑا مالی معاون ہے اور کسی بھی دوسرے مستقل رکن ملک کی نسبت زیادہ فوجی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2025 کے آخر تک چینی نیلے ہیلمٹ بیرون ملک خاص طور پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم رکھنے کے مشنز میں فعال رہیں گے۔

کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں کمبوڈیا اور چینی حکام دانتوں کے علاج کے لئے کرسیاں حوالے کرنے کی تقریب میں شریک ہیں-(شِنہوا)
میتھیوز نے کہا کہ چین کے عالمی اقدامات جیسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی)، گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو(جی ڈی آئی)، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو( جی ایس آئی)، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو(جی سی آئی) اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو(جی جی آئی) نے جنوب مشرقی ایشیا اور عالمی سطح پر بے پناہ فوائد فراہم کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات دنیا بھر میں جغرافیائی معیشت اور جغرافیائی تزویراتی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔
میتھیوز نے کہا کہ بی آرآئی کے منصوبوں نے عالمی غربت کو خاص طور پر افریقہ اور ایشیا میں نمایاں حد تک کم کیا ہے ۔


