روس نے یوکرین پر صدر پیوٹن کی رہائشگاہ پر ڈرون حملے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ریاستی دہشتگردی کے مترادف ہیں اور انکا جواب ضرور دیا جائیگا، حملہ کے باعث یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امن مذاکرات کو شدید دھچکا لگا ہے تاہم یوکرین نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
روسی حکومت نے کہا ہے کہ یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائشگاہ کو نشانہ بنانے کیلئے 91 طویل فاصلے تک مار کرنیوالے ڈرونز استعمال کئے جنہیں روسی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روسی افواج جوابی کارروائی کیلئے اہداف کا انتخاب کر چکی ہیں تاہم روس مذاکراتی عمل سے دستبردار نہیں ہوگا بلکہ اپنے موقف پر نظرثانی کر رہا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے الزامات کو پروپیگنڈا قرار دیااورکہا کہ روس الزامات کے ذریعے کیف پر حملوں کیلئے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے اور امریکا کیساتھ جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، انکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ ملاقات میں جنگ کے خاتمے کیلئے پیشرفت ہوئی ہے، مگر روس اس سے ناخوش ہے، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ روس دارالحکومت کیف اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ادھر صدر پیوٹن نے اپنی فوج کو ہدایت کی ہے کہ یوکرین کے زاپوریزیا علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کارروائیاں تیز کی جائیں۔


