امریکہ نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی بعض پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مغربی کنارے میں عدم استحکام غزہ میں حالات کو سنبھالنے اور ابراہیم معاہدوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انکے اعلیٰ حکام نے اس تشویش کا اظہار اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران کیا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق یہ ملاقات امریکا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں ہوئی جہاں ٹرمپ اور انکے سینئر مشیروں نے خاص طور پر یہ مسئلہ اٹھایا کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کو روکنے کیلئے موثر اقدامات نہیں کئے جا رہے جبکہ یہ تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے اسرائیلی بستیوں میں توسیع اور فلسطینی اتھارٹی کے اربوں ڈالر کے ٹیکس فنڈز روکنے پر بھی تشویش ظاہر کی، فنڈز کی بندش کے باعث رام اللہ میں قائم فلسطینی حکومت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور اسکے نظام کے مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ان نکات پر گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی۔
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انکی نیتن یاہو سے مغربی کنارے کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، انہوں نے اعتراف کیا کہ دونوں رہنمائوں کے درمیان ہر معاملے پر اتفاق نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم درست فیصلہ کرینگے۔دوسری جانب نیتن یاہو کو اپنی حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے دبائو کا سامنا ہے جو مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیوں کے قیام، علاقے کے انضمام اور فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کے حامی ہیں، وائٹ ہائوس نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔


