چین کے وسطی علاقے میں واقع ہوبے ایسٹ لیک لیبارٹری نے جمعہ کے روز ہائی اسپیڈ میگلیو ٹیکنالوجی میں ایک اہم کامیابی کا اعلان کیا جس کے مطابق اس کی ٹیسٹ لائن پر 1.1 ٹن وزنی ماڈل ٹرین کو محض 5.3 سیکنڈ میں 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچایا گیا۔ یہ برقی مقناطیسی قوتِ محرکہ پر مبنی تحقیق میں ایک نمایاں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تجربہ ایک ہزار میٹر طویل ٹریک پر کیا گیا جہاں ٹرین نے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کی اور آٹھ سیکنڈ کے مجموعی سفر کے بعد ہموار انداز میں اپنے اختتامی مقام پر رک گئی۔
لیبارٹری کے مطابق یہ کامیابی مستقل مقناطیس پر مبنی برقی معلق رہنمائی اور برقی مقناطیسی قوتِ محرکہ کے مشترکہ نظام کی بدولت ممکن ہوئی جس نے تیز رفتار کے دوران ایروڈائنامک استحکام، کم تاخیر والی وائرلیس کمیونیکیشن اور لینیئر موٹرز کے انتہائی درست کنٹرول جیسے بڑے تکنیکی چیلنجز پر قابو پایا۔
یہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران لیبارٹری کا تیسرا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل 16 جون کو 650 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 14 جولائی کو 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے کامیاب مظاہرے کئے جا چکے ہیں۔
لیبارٹری کا کہنا ہے کہ ایک ہزار میٹر طویل یہ تجرباتی ٹریک آئندہ نئی نسل کی میگلیو ٹرانسپورٹ، ایروسپیس برقی مقناطیسی لانچز اور کم بلندی کی معیشت سے متعلق منصوبوں میں تحقیق و ترقی کے لئے ایک کھلے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جو جدید ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔
ووہان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


