اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی جبکہ سی ڈی اے نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو اسی سیکٹر میں ڈویلپ پلاٹس دیئے جائینگے۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس اعظم خان نے شہری ملک گل زرین کی سی ڈی اے کیخلاف معاوضوں کی ادائیگی بڑھانے تک ادائیگی روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔
ڈی جی لاء سی ڈی اے نعیم اکبر ڈار نے عامر لطیف گل ایڈووکیٹ کے توسط سے سی ڈی اے کا تفصیلی جواب عدالت میں جمع کروا یا جس میں کہا گیا ہے کہ سیکٹرزایف 13، ای 13 اور ڈی 13کے اراضی مالکان کیلئے جلد ڈویلپ پلاٹس کی قرعہ اندازی کی جائیگی، سی ڈی اے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت پلاٹس الاٹ کئے جائینگے، اراضی مالکان کو سروے کے بعد گھروں کے بدلے بھی معاوضہ دیا جائے گا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سی ڈی اے کو سینکڑوں اراضی مالکان نے لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت معاوضوں کیلئے درخواستیں دی ہیں، ابتدائی تصدیق کے بعد اراضی مالکان کو لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت معاوضوں کی ادائیگی شروع کر دی ہے، سی ڈی اے لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت سینکڑوں اراضی مالکان کو پہلے ہی معاوضوں کی ادائیگی کر چکا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے سیکٹرز کے اراضی مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی فوری روکنے کی استدعاء مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔


