ہائی نان (شِنہوا) چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے شہر سانیا کے ایک اسپتال میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی مومنہ حسین نے شدید تکلیف کے ساتھ ایک صحت مند بیٹے کو جنم دیا جس کے ساتھ ہی وہ تین بچوں کی ماں بن گئیں۔
37 سالہ مومنہ حسین سانیا میں چائنیز اکیڈمی آف ٹراپیکل ایگریکلچرل سائنسز کے تحت ایک تحقیقی ادارے میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں جو کہ 38 ہفتے کی حاملہ تھیں۔ ان میں نایاب Rh-نیگیٹو بلڈ گروپ کی تشخیص ہوئی تھی جسے چین میں عموماً "پانڈا بلڈ” کہا جاتا ہے اور ساتھ ہی انہیں درمیانے درجے کی خون کی کمی (انیمیا) بھی لاحق تھی۔
جب 24 اگست کو طاقتور طوفان کاجیکی سانیا کے قریب پہنچا اور اس سے نقل و حمل اور طبی سہولیات کو خطرہ لاحق ہوا تو مقامی حکام نے پیشگی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ سانیا ماں اور بچے کی صحت کے اسپتال کو ہدایت دی گئی کہ وہ حاملہ خواتین کو اطلاع دے کر بروقت اسپتال میں داخل کرے تاکہ انہیں طوفان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ جان کر کہ حاملہ خواتین میں ایک پاکستانی خاتون بھی شامل ہے، اسپتال نے فوری طور پر ایک خصوصی طبی ٹیم کا بندوبست کیا اور اسے پہلے سے داخل ہونے کی ہدایت دی۔
اسپتال کے شعبہ زچہ و بچہ کے ڈائریکٹر جیاؤ بو نے کہا کہ مومنہ ہمارے اعلیٰ ترجیحی مریضوں میں سے ایک تھیں، ان کے خون کے گروپ کی نایابی اور اس کے مطابق خون کا بندوبست کرنے میں درپیش مشکلات کے باعث ان کی سلامتی سب کے لیے تشویش کا باعث تھی۔
اپنے شوہر ورک محمد کے ہمراہ مومنہ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی اسپتال پہنچ گئیں۔ کچھ ہی دیر بعد ان میں زچگی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔
ایک کثیر الشعبہ طبی ٹیم نے فوری مشاورت کی، تفصیلی جراحی منصوبہ بندی تیار کی اور یقینی بنایا کہ ان کے جیسے گروپ کے خون کی فراہمی تیار ہو۔ اس کے خاندان کی سہولت کے لیے اسپتال نے ان کے لیے الگ وارڈ کا بھی انتظام کیا۔
سخت موسمی حالات کے باوجود 25 اگست کو صبح 10 بجے ایک انتہائی پیچیدہ سیزیرین آپریشن باہمی تعاون کرنے والی طبی ٹیم نے بخوبی انجام دیا۔
جذباتی انداز میں مومنہ نے کہامیں اپنے چینی دوستوں کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔اسپتال نے فوری طور پر ہر کام کیا۔ اگر مجھے وقت سے پہلے داخل نہ کیا جاتا تو میں ایسے موسم میں محفوظ طریقے سے بچہ پیدا نہیں کر پاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خوشگوار طور پر حیران تھیں کہ مقامی حکومت نے طوفان کی وجہ سے اسپتال میں قبل ازوقت داخل ہونے والی حاملہ خواتین کے تمام اخراجات برداشت کیے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 24 اگست کی رات سے لے کر 25 اگست کی صبح تک کے دوران سانیا میں مجموعی طور پر 15 بچے طو فان کے دوران محفوظ طریقے سے پیدا ہوئے۔
مومنہ نے کہا کہ وہ اپنے بچے کو ان میں سے ایک ہونے پر خوش نصیب محسوس کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے محبت بھرے اور خیال رکھنے والے رویے نے مجھے دوسرے ملک میں خاص طور پر محفوظ اور خیال رکھے جانے کا احساس دلایا۔
