اتوار, اگست 31, 2025
ہومChinaایس سی او نمائشی ایریا چین۔پاکستان اقتصادی تعاون کے لئے ایک اہم...

ایس سی او نمائشی ایریا چین۔پاکستان اقتصادی تعاون کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا

چھنگ ڈاؤ(شِنہوا)جیاؤ ژو ساحل پر واقع چھنگ ڈاؤ میں ایک متحرک بین الاقوامی تعاون کا پلیٹ فارم تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ 2018 میں قائم ہونے والا چائنہ-ایس سی او مقامی اقتصادی و تجارتی تعاون نمائشی علاقہ (ایس سی او ڈی اے) اب چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے والا ایک کلیدی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں پالیسی مراعات نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں، کاروبار گہرے شراکتی تعلقات قائم کر رہے ہیں اور متاثر کن کامیاب کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔

حال ہی میں ایس سی او ڈی اے کی معاونت سے منعقدہ ایس سی او اقتصادی و تجارتی کانفرنس میں پاکستانی نمائش کنندہ ملک احتشام علی نے اس پلیٹ فارم کو پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے ایک شاندار ذریعہ قرار دیا۔ علی نے کہا کہ میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ انہیں ایس سی او کے ایونٹس میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ یہ پلیٹ فارم پاکستانی مصنوعات کی فروخت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک اور پاکستانی کاروباری شخصیت فیصل رشید گزشتہ 8 سال سے چھنگ ڈاؤ کو اپنا گھر بنائے ہوئے ہیں اور اپنی کمپنی چھنگ ڈاؤ فیصل ٹریڈنگ کمپنی لمیٹڈ چلا رہے ہیں۔ وہ ایس سی او نمائشوں میں 4 بار شرکت کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایس سی او ڈی اے نے ان کے گاہکوں کا دائرہ وسیع اور سرحد پار تجارت کو فروغ دیا ہے۔

رشید نے کہا کہ ایس سی او کا پلیٹ فارم ہمیں حقیقی مواقع دیتا ہے کہ ہم پاکستانی مصنوعات کو چین میں متعارف کرائیں اور ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کی مزید سرگرمیاں ہوں۔

ان کے تجربات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایس سی او ڈی اے دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ایس سی او ڈی اے کے چھنگ ڈاؤ ایس سی او پرل انٹرنیشنل ایکسپو سنٹر میں قائم "پاکستان نیشنل ایلیمنٹس پویلین” دوطرفہ تجارت کے لئے ایک موثر دروازے کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے ڈائریکٹر چھن لونگ کے مطابق یہ پویلین نہ صرف پاکستانی ثقافت اور خصوصی مصنوعات کی نمائش کرتا ہے جو چینی صارفین کی بڑی توجہ حاصل کرتی ہیں بلکہ ملٹی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے ورثے کو بہتر طور پر سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ چھین نے کہا کہ یہ ثقافتی تبادلہ مستقبل کے اقتصادی تعاون کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ڈیجیٹل جدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایس سی او ڈی اے نے لائیو سٹریمنگ کے ذریعے بھی پاکستانی مصنوعات کو اجاگر کیا۔

 ایس سی او آن لائن مصنوعات ای-کامرس ایونٹ 2025 کے دوران میزبانوں نے کڑی کے ساتھ پکے خوشبودار باسمتی چاول کو سراہا جبکہ چلغوزے، نمک کے لیمپ اور دیگر اشیاء تیزی سے فروخت ہوگئیں۔

اس موقع پر چین میں پاکستان کے سفیر خلیل الرحمن ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کوایس سی او کی رکنیت پر فخر ہے۔ ہماری شراکت داری صرف تجارت پر مبنی نہیں بلکہ روایتی دوستی اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر خریداری یا ثقافتی تجربہ عوامی روابط کو مضبوط کرتا ہے۔

ایس سی او ڈی اے تجارت سے آگے بڑھتے ہوئے صنعتی تعاون کا بھی ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر چھنگ ڈاؤ لولو زرعی سازوسامان کمپنی نے ڈیسٹیمر، کٹر اور سارٹر جیسی اپنی مرچ پروسیسنگ مشینری پاکستان، ترکیہ اور بھارت میں متعارف کروائی جس سے مقامی پیداوار میں انقلابی بہتری آئی۔

کمپنی کے چیئرمین لی ژی من نے بتایا کہ روایتی طریقوں سے ایک ٹن خام مال سے 0.5 ٹن مرچ کا چھلکا حاصل ہوتا ہے۔ ہماری خودکار ٹیکنالوجی سے یہ مقدار بڑھ کر 0.6 ٹن ہو جاتی ہے اور فی گھنٹہ پیداوار 3 ٹن تک پہنچتی ہے جو کہ 20 گنا زیادہ ہے۔ ایس سی او ڈی اے کے ذریعے لی نے زیادہ پیداوار کی حامل چینی مرچ کی اقسام بھی پاکستان میں متعارف کروائیں جہاں 2022 میں 100 ایکڑ سے شروع ہونے والی آزمائشی کاشت اس سال 500 ایکڑ تک پہنچ چکی ہے اور دونوں برس زبردست پیداوار حاصل ہوئی۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فروغ کے ساتھ ایس سی او ڈی اے دونوں ممالک کی مشترکہ ترقی میں مسلسل نئی روح پھونک رہا ہے اور یہ ثابت کر رہا ہے کہ تعاون سے خوشحالی جنم لیتی ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!