لاہور: ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے آئندہ چند روز میں بھارت سے مزید 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کیساتھ پانی بہائو بارے معلومات فراہمی کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے، لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے انتظامی سطح پر فیصلے لئے جا چکے ہیں، غیر ضروری بند نہیں توڑے جائیں گے، عوامی مفاد میں فیصلے کئے جا رہے ہیں، سیلاب سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ 30 افراد مختلف حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے کہا کہ اس وقت پورے ریجن میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، گجرات اور منڈی بہاوالدین میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں زیادہ بارش ہوئی ہے، ایک روز قبل ستلج کی جانب زیادہ دبائو کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھارت میں ایک بند ٹوٹا تھا، گنڈا سنگھ والا پر پانی میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قصور میں 22دیہات کو خالی کروایا گیا اس وقت وہاں 3لاکھ 3ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ اسلام پر 64ہزار کیوسک کا فلو ہے جو وہاڑی کے مقام پر بڑھے گا۔
انہوں نے بتایا کہ مرالہ پر اس وقت ایک لاکھ 75ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، ایک روز قبل چنیوٹ پر 8 لاکھ سے زائد کا ریلہ گزرا جو آج ساڑھے 6لاکھ کیوسک تک آ چکا ہے، گزشتہ روز جھنگ شہر کو بچانے کیلئے بند کو توڑا گیا جس سے شہری آبادی کو بڑے نقصان سے بچایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں کے مقام پر 8لاکھ 30ہزار کیوسک کا ریلہ پہنچنے کا امکان ہے جبکہ راوی میں 2لاکھ 20ہزار کیوسک کا ریلہ گزرا جو اس وقت ایک لاکھ 29ہزار کیوسک تک گر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راوی میں اس وقت بڑا ریلہ ہیڈ بلوکی پہنچ چکا ہے جس میں ننکانہ صاحب کے نالہ ڈیک کا پانی بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیڈ محمد والا پر 7سے 8لاکھ کیوسک کا ریلہ ہو گا کیونکہ وہاں راوی اور دوسرے دریا کا پانی اکٹھا ہوگا، وہاں شائد کسی بند کو توڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے انتظامی سطح پر فیصلے لئے جا چکے ہیں، غیرضروری طور پر بند نہیں توڑے جائیں گے بلکہ عوامی مفاد میں فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 4ستمبر کو 8لاکھ 75ہزار سے 9لاکھ 25ہزار کیوسک کا ریلہ پنجند کے مقام پر پہنچنے کا امکان ہے، اس کے بعد یہ ریلہ 6ستمبر کو گدو کے مقام پر پہنچے گا، اس کے پیش نظر تمام تر انتظامات اور فیصلے کئے جا چکے ہیں، ہماری ہر معاملے پر لمحہ بہ لمحہ نظر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو وریلیف آپریشن کیا گیا ہے، اس میں 800بوٹس اور 13ہزار ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا ،پاک آرمی نے بھی ہماری بھرپور مدد کی، اب ریسکیو میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہیں ہے، تینوں دریائوں میں سے چناب کے 1179موضع جات، 478گائوں اور ستلج پر 391دیہات متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نظر آئے، چناب میں 9 لاکھ 66 ہزار، راوی پر 2 لاکھ 32 ہزار اور ستلج پر 3 لاکھ 13 ہزار افراد سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں، چانب پر300،راوی پر 200 اورستلج پر 150 ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور میں 6 سے 7 ہزار افراد ریلیف کیمپس میں موجود ہیں جنہیں کھانا پینا اور رہائشی ضرویات فراہم کی جا رہی ہیں، اب تک 30 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر حادثاتی اموات ہوئی ہیں، تمام ادارے ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت سے آئندہ چند روز میں 70ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے، وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ بھارت سے معلومات کا تبادلہ کرے تاہم بھارت کے ساتھ انفارمیشن شیئر کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے بعد لوگوں کی بھرپور مدد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ متاثرین کے نقصانات کا اازلہ کیا جائے گا۔