اتوار, اپریل 6, 2025
ہومLatestآئی ایم ایف پروگرام آخری بنانے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مکمل...

آئی ایم ایف پروگرام آخری بنانے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت ہے، سینیٹر محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وزیر خزانہ سینیٹر محمداورنگزیب نے آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنانے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن سے فوائد حاصل ہو رہے ہیں، چینی، کھاد، تمباکو میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا مکمل اطلاق کر دیا ہے ،رواں سال ترسیلات زر 36ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا اندازہ ہے، جون کے آخر تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 13ارب ڈالر ہو جائیں گے، شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے،ایل سی کھولنے ،کمپنیوں کو منافع باہر بھجوانے میں مشکلات نہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے جسے اب پائیدار معاشی استحکام میں بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی محاذ میں بہتری آئی ہے ،ترسیلات زر میں 32فیصد اضافہ ہوا ہے، رواں سال ترسیلات زر 36ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا اندازہ ہے، برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جون کے آخر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13ارب ڈالر ہو جائیں گے، اس وقت ایل سی کھولنے اور کمپنیوں کو منافع باہر بھجوانے میں کوئی مشکلات نہیں ،اندرونی محاذ پر افراط زر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی 6دہائیوں کی کم ترین سطح 0.7فیصد پر ہے، یہ کمی عوام تک منتقل ہونی چاہئے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی مہنگائی میں کمی کیلئے اقدامات لے رہی ہے، ای سی سی نے مہنگائی پر خاص نظر رکھی ہوئی ہے، ای سی سی مہنگائی کی مانیٹرنگ کیلئے نئے اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود میں نمایاں کمی ہوئی ہے، میرے خیال میں شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے، پی ڈبلیو سی اور اوورسیز چیمبر نے اعتماد میں اضافہ کی رپورٹ دی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، مقامی سرمایہ کاروں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عیدالفطر پر 870ارب روپے کی خریداری ہوئی  جبکہ گزشتہ مالی سال عیدالفطر پر 720ارب روپے کی خریداری ہوئی تھی، پہلی ششماہی میں سیمنٹ کی پیداوار میں 14فیصد کا اضافہ ہوا، پہلی ششماہی میں کاروں کی فروخت میں 40فیصد اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں 30فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے، ہم نے آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارک حاصل کئے ، اس دفعہ قومی مالیاتی معاہدہ اور زرعی انکم ٹیکس وصولی کیلئے اقدامات کئے گئے، یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان نے اسٹرکچرل بینچ مارک حاصل کئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی بار اہداف حاصل کرنے کیلئے صوبوں نے بھی اقدامات کئے، امید ہے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط کی جلد منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر بھی آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیا ہے، ہمیں ایک ارب ڈالر یکمشت نہیں مرحلہ وار ملیں گے، جیسے جیسے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اہداف حاصل کریں گے رقم ملتی جائے گی، آئی ایم ایف کا آخری پروگرام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، پاکستان میں معاشی استحکام پہلے ہی آ چکا تاہم اب اس کو آگے لے کر جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 10.8فیصد کر دیا ہے، ٹیکس وصولی کو بڑھایا اور گہرا کیا جا رہا ہے، ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن سے فوائد حاصل ہو رہے ہیں، چینی، کھاد، تمباکو میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا مکمل اطلاق کر دیا گیا ہے، سیمنٹ میں اس کا اطلاق ابھی مکمل نہیں کیا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جائے گا، آئندہ مالی سال تنخواہ دار طبقے پر خود کارٹیکس ادائیگی کا نظام لاگو ہوگا۔

+ posts
متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!