جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومLatestوزیراعظم کا گھریلو صارفین کیلئے بجلی فی یونٹ 7روپے 41پیسے سستی کرنے...

وزیراعظم کا گھریلو صارفین کیلئے بجلی فی یونٹ 7روپے 41پیسے سستی کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف گھریلو صارفین کیلئے بجلی قیمت میں 7روپے 41پیسے فی یونٹ جبکہ صنعتی صارفین کیلئے 7روپے 59پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے فضل سے ایک اور وعدہ پورا کردیا،دل میں تڑپ ،کچھ کرنے کا عزم ہوتو اللہ کرم کرتا ،مسائل حل ہوجاتے ہیں،77 سال سے غربت کی طرف دھکیلنے والے مسائل کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکا تو تمام ریلیف بے معنی ہو جائینگے، تمام بوجھوں کو دریا برد کرنے کا وقت آگیا، معیشت کی بہتری کیلئے سرجری کرنی ہوگی، اینٹی بائیوٹک سے کام نہیں چلے گا، قرضوں پر انحصار کم کرنے کیلئے آمدن بڑھانا ہوگی،ملک میں موجود معدنیاتی پہاڑوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا، زراعت میں بھی محنت کر کے اربوں ڈالر بچائے جاسکتے ہیں، ماضی کیلئے ہم سب ذمہ دار ہیں، آگے مشکلات ضرور مگر اب ہمیں تیزی سے دوڑنا ہوگا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں بجلی قیمتوں میں کمی پیکیج کے اعلان کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تقریب کے شرکاء کو عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آج عید کے موقع کی مناسبت سے پاکستان کی معاشی ترقی و استحکام کیلئے ایک ادنی سے خوش خبری سنانے کیلئے آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے وہ وعدہ پورا ہوا جس کا نواز شریف نے (ن) لیگ کے منشور میں اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سنبھالی تو ملک ڈیفالٹ ہونے والا تھا، آئی ایم ایف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا، پوری قوم خوفزدہ تھی کی حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، ہم نے انتہائی دشوار گزار سفر طے کیا اور ملک کو ڈیفالٹ سے باہر لے آئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے کہ پاکستان اب دیوالیہ ہوکر رہے گا مگر ایسا نہ ہوا، یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور اسے توڑا۔انہوں نے کہا کہ ملک کیخلاف ایک گھناؤنا کردار ادا کیا گیا، اپنی سیاست پر پاکستان کے مفادات کو قربان کیا گیا، ریاست کا وہ حال کیا گیا شائد ایسا 77 سال میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔

انہوں نے شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ ”مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں اللہ پاک نے ہماری محنت قبول کی اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچالیا، اس مقصد کیلئے پوری قوم ، بزنس کمیونٹی اور غریب لوگوں نے جو قربانیاں دیں اور مصائب برداشت کئے، وہ قابل قدر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ایک ایک فرد کی کاوشیں اللہ کی بارگاہ میں منظور ہوئیں، آج ہم استحکام معیشت کے اس مقام پر کھڑے ہیں، جہاں شائد ہمیں پہلے سے زیادہ محنت کرنا پڑے، یہ سفر پہلے سے زیادہ دشوار گزار ہو، پاکستانی قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں، ایسا بھی وقت آیا کہ جب پنشنر بجلی کا بل ادا کردیتا تھا تو اسے معلوم نہیں تھا، کہ بچوں کی دوائیں کہاں سے لاؤں گا، یہ وہ وقت تھا کہ بجلی کا بل ادا کرکے گھر میں بے چارگی کا عالم ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دکاندار، سرمایہ کار، صنعتکار اپنے اپنے کاروبار کو بند کرنے پر مجبور ہورہے تھے، کہ اتنا مہنگا مال کیسے بیچیں گے؟، صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہوگیا، لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے، ان لاکھوں مزدوروں کی قربانیوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل جنہوں نے 77سال میں غربت کی طرف دھکیلا، اگر ہم نے جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینکا تو یہ ریلیف اور آئندہ آنیوالے ریلیف بے معنی ہوجائیں گے، معیشت کی بہتری کیلئے سرجری کرنی ہوگی، اینٹی بائیوٹک سے کام نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ 2026ء میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے گی مگر مہنگائی2025میں ہی سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے جو 2024 میں 38فیصد پر تھی، یہ آج صرف 1.5پر ہے، حالانکہ سنگل ڈیجٹ کا مطلب 9فیصد بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 38روپے کمی کی گئی ہے، اس عرصے میں شرح سود نصف ہوچکی ہے، جس سے کاروباری برادری کے بزنس میں یقینا بہتری آئی ہے، صنعتکار یہاں موجود ہیں، یہ بھی بہتر بتاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے ہوتے کوئی سبسڈی نہیں دی جاسکتی، سرکاری اداروں کو سبسڈی کی مد میں سالانہ 800ارب روپے ڈوب جاتے ہیں، شفاف نجکاری کے ذریعے ہم ان مسائل کے بوجھ سے جان چھڑائیں گے، ہم سب ملکر ایک پیج پر آکر فیصلہ کریں، جب تک یہ 800ارب خزانے میں نہیں آتے، تو ہمیں سکون سے نہیں بیٹھنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ایک کاروباری شخص نے کہا کہ ہر حکومت کو لکھتے ہیں کہ جعلی بیج کی کمپنیاں اربوں کھاجاتی ہیں، کوئی نہیں سنتا، جب میں افسر شاہی سے پوچھا تو بتایا گیا کہ ایسا تھا، ویسا تھا، لیکن ایک ہفتے میں سب ہوگیا، وہ کمپنیاں ختم ہوگئیں، صرف ہمیں فیصلے کرنے اور قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت چلا گیا کہ کوئی قوم کا وقت ضائع کرے، ایسے کسی شخص کا حکومت میں کوئی کام نہیں، خواہ وہ میں ہی کیوں نہ ہوں، انہوں نے کہا کہ رواں سال غیرملکی ترسیلات زر 30فیصد بڑھ گئیں، آئندہ سال کیلئے یہ ہدف 35فیصد رکھیں گے، کیوں کہ یہ اضافہ ہوا تو ہم قرض کم لیں گے، یہی طریقہ ہے کہ آپ قرضوں پر انحصار کم کریں، آمدن بڑھائیں۔ انہوںنے کہا کہ اللہ نے اس ملک کو معدنیات کے پہاڑ عطا کئے ہیں، ہمیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اسی طرح زراعت میں ہم محنت کریں تو اربوں ڈالر بچ سکتے ہیں، صرف کپاس کی امپورٹ پر اربوں ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود تمام طبقات پاکستان کے سفیر ہیں، اللہ نے یہ موقع پھر عطا فرمایا کہ پاکستان مستحکم ہوچکا ہے، غیرمتزلزل عزم کے ساتھ محنت کریں تو ہم پھر اسی مقام پر پہنچ جائیں گے، جس کا خواب ہمارے آبااجداد نے دیکھا تھا، ہجرت کے دوران لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں، ہمیں ان کے خواب کو پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کیساتھ گزشتہ سال بات چیت ہوئی کہ آپ لوگوں نے 200 فیصد تک کما لیا اب قوم کو بھی راحت ملنے دیں، اس بات چیت کے نتیجے میں آئی پی پیز کو واجب الادا 3ہزار 696ارب روپے اب ادا نہیں کرنے پڑیں گے، انہوں نے کہا کہ 2ہزار 393ارب کے گردشی قرض کا بھی انتظام کرلیا گیا ہے، 5سال بعد یہ قرض کبھی گردش نہیں کرے گا، بشرطیکہ ہم نے اپنے اسلوب اور اطوار کو تبدیل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ سالوں سے کئی پاورپلانٹس نہیں چلے لیکن اربوں روپے انہیں ادا کیے گئے، بجلی چوری اور جنکوز کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا، بند پاور پلانٹ بیچنے سے 9ارب ملیں گے، جب کہ ان کی حفاظت پر سالانہ 7ارب خرچ ہورہے تھے، آج وہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایسے تمام بوجھوں کو دریا برد کردیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی زائد قیمت ترقی کی راہ میں ہمالیہ کی مانند رکاوٹ ہے، ہماری زراعت، ایکسپورٹ اور صنعت کچھ بھی ترقی نہیں کرسکتی، جو ہوگیا سو ہوگیا، ہم ایک مشکل سفر طے کرکے آئے ہیں، بجلی سے متعلق بنائی گئی ٹاسک فورس یہاں موجود ہے جس نے دن رات کوششیں کیں جس نے بڑی مشکل سے آئی ایم ایف کو منایا، انہوں نے اچھے اچھے آپشن پیش کئے مگر آئی ایم ایف نے انکار کیا، ہم نے پھر کوششیں کیں خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا اور آئی ایم ایف راضی ہوا یوں سمجھیں کہ آئی ایم ایف نے ہم پر احسان کیا اور بجلی کی قیمت میں کمی کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود آئی ایم ایف کی سربراہ سے بات کی کہ ہم بجلی سستی نہیں کررہے بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف بجلی کی قیمت میں منتقل کر رہے ہیں، ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ کھوئے اعتماد کو بحال کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کھلے دل کیساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس سارے عمل میں آرمی چیف جنرل سید محمد عاصم منیر اور ان کے رفقائے کار کا مجھے اور میری ٹیم کو بھرپور تعاون حاصل رہا اور کلیدی کردار رہا۔ وزیراعظم نے بجلی قیمت میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جون 2024ء میں گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت 48روپے 70پیسے تھی یہ قیمت کم ہوکر اس سال 45پیسے 05پیسے فی یونٹ ہوچکی ہے یعنی اس میں ساڑھے 3روپے کی کمی ہوئی ،میں آج اس میں مزید 7روپے 41پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتا ہوں، گھریلو صارفین کو اب بجلی اوسط 34روپے 37پیسے فی یونٹ میں فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جون 2024ء میں صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت 58روپے 50پیسے تھی، بعد کے مہینوں میں یہ قیمت 48روپے 19پیسے ہوچکی ہے یعنی اس میں 10روپے 30پیسے کی کمی لائی گئی، آج میں اس میں مزید 7روپے 59پیسے کمی کا اعلان کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تقریب میں موجود پشاور سے کراچی تک کی بزنس کمیونٹی کو صدق دل سے یقین دلاتا ہوں کہ ہمیں آپ کو توانا کرنا ہے، آپ کو اختیارات دینے ہیں لیکن جب آپ کماتے ہیں، اللہ پاک آپ کو موجودہ آمدن سے ہزار گنا عطا کرے، لیکن جب کمائیں تو ٹیکس بھی لازم و ملزوم ہے، اگر ہم صرف کماتے چلے جائیں اور ٹیکس نہ دیں تو پھر پاکستان کیسے چلے گا؟۔

انہوں نے کہا کہ سالوں سے ٹیکس کے مقدمات زیر التوا تھے، ہم نے عزم کے ذریعے وزیر قانون، اٹارنی جنرل، چیئرمین ایف بی آر، چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش کی تو انہوں نے ماتحت عدلیہ کو انصاف کے مطابق مقدمات کے فیصلے ترجیح بنیاد پر کرنے کی ہدایت کی، ایک دن میں سندھ ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر ختم ہوا تو 23 ارب روپے خزانے میں آئے۔

انہوں نے کہا کہ اورنج لائن کے ایک ٹھیکیدار نے میٹریل میں ڈنڈی مارنا شروع کی، مجھے اطلاع ملی تو میں پہنچا، وہ لوگ فاش غلطی کررہے تھے، خدانخواستہ نہ پکڑے جاتے تو کوئی بڑا حادثہ پیش آجاتا، ہم نے ان کی ڈپازٹ کی 90ارب روپے کی رقم ضبط کرنے کیلئے بات کی تو گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان سے باہر تھے، تاہم ڈپٹی گورنر کو فون کیا بینک اور ٹھیکیدار ملے ہوئے تھے، ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک کو کہا کہ 12بجے پیسہ پنجاب کے خزانے میں نہ آیا تو آپ کی چھٹی کرادوں گا، 12کی بجائے 11بجے پیسہ خزانے میں آگیا۔

انہوںنے کہا کہ اگر تڑپ ،دل میں کچھ کرنے کا عزم ہوتو اللہ کرم کرتا اور مسائل حل ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کیلئے ہم سب ذمہ دار ہیں، مگر جو ہوگیا، وہ ہوگیا، آگے مشکلات ضرور ہیں مگر اب ہمیں تیزی سے دوڑنا ہوگا۔

+ posts
متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!